صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 276
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٥ - كتاب الحج رکھا ہے جس سے ظاہر ہے کہ امام بخارگی اس میں جمہور کے ساتھ متفق نہیں۔اندر سے دروازہ لوگوں کے ازدحام سے بچنے اور خلوت کی غرض سے بند کیا گیا تھا جیسا کہ صلح حدیبیہ کے بعد جو عمرہ ہوا۔اس میں بھی لوگوں کے ازدحام سے بچانے کے لئے آپ کو اوٹ کی گئی تھی۔(روایت نمبر ۱۲۰۰) روایت نمبر ۱۶۰۱ کا واقعہ فتح مکہ کے زمانہ کا ہے۔اس کی تصریح کتاب المغازی باب ۴۸ ۵۰۰ میں دیکھئے۔بَابِ ٥٢ : الصَّلَاةُ فِي الْكَعْبَةِ کعبہ میں نماز پڑھنا ١٥٩٩: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ :۱۵۹۹ احمد بن محمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا : ) أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عبدالله بن مبارک) نے ہمیں بتایا ، (کہا: ) موسیٰ عُقْبَةَ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ بن عقبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، نافع عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ إِذَا دَخَلَ الْكَعْبَةَ مَشَى نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ قِبَلَ الْوَجْهِ حِيْنَ يَدْخُلُ وَيَجْعَلُ الْبَابَ جب کعبہ میں داخل ہوتے تو داخل ہوتے وقت قِبَلَ الظَّهْرِ يَمْشِي حَتَّى يَكُوْنَ بَيْنَهُ سیدھے چلے جاتے اور اپنی پیٹھ دروازے کے مقابل وَبَيْنَ الْجِدَارِ الَّذِي قِبَلَ وَجْهِهِ قَرِيْبًا رکھتے۔اتنا چلتے کہ آپ کے اور اس دیوار کے درمیان جو آپ کے منہ کے سامنے ہوتی تقریبا تین مِنْ ثَلَاثِ أَذْرُعٍ فَيُصَلِّي يَتَوَفَّى ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا تو آپ وہاں نماز کے لئے اس جگہ کا قصد کرتے جس سے متعلق حضرت بلال نے الْمَكَانَ الَّذِي أَخْبَرَهُ بِلَالٌ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِيْهِ انہیں بتایا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں وَلَيْسَ عَلَى أَحَدٍ بَأْسٌ أَنْ يُصَلِّيَ فِي نماز پڑھی ہے اور کسی پر کچھ قباحت نہیں کہ بیت اللہ أَيِّ نَوَاحِي الْبَيْتِ شَاءَ۔کے جس کونے میں چاہے نماز پڑھے۔اطرافه: ٣٩٧، ٤٦٨، ٥٠٤، ٥٠٥، ٥٠٦ ۱۱٦٧، ۱۵۹۸، ٢٩۸۸، ٤٢٨٩، ٤٤٠٠۔الصَّلَاةُ فِي الْكَعْبَةِ یہ باب بھی سابقہ مسئلہ کے ضمن میں ہی قائم کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۵۹۹ تشریح: میں اس بات کی صراحت ہے کہ کعبہ کے اندر جدھر چاہے ؛ نماز پڑھے ، خواہ فریضہ ہو یا غیر فریضہ محولہ بالا روایت میں دروازہ بند کرنے کا ذکر نہیں۔بحالیکہ حضرت عبداللہ بن عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا غایت درجہ التزام رکھتے تھے۔