صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 273 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 273

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۷۳ ٢٥ - كتاب الحج حجرا ایسی اور بھی متعدد روایتیں ہیں جن میں سے ایک روایت حضرت عبداللہ بن عمرو کی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں : تَخْرُجُ الْحَبَشَةُ بَعْدَ نَزُولِ عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَيَبْعَثُ عِيسَى طَائِفَةً فَيُهْزَمُونَ۔ علیمی نے بھی ذکر کیا ہے کہ یہ پیشگوئی حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں پوری ہوگی اور شور برپا ہوگا کہ پنڈلیوں والے نے مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی ہے تو حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اس کی طرف ایک دستہ فوج بھیجیں گے تو وہ شکست کھا جائیں گے۔ علامہ عینی نے یہ روایتیں اپنی شرح میں نقل کی ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۳۲-۲۳۳ زیر تشریح روایت نمبر ۱۵۹۱) میری رائے میں باب نمبر ۴۹ میں ان مختلف روایتوں کے پیش نظر تخریب کعبہ سے متعلق اصل پیشگوئی کے الفاظ کی تصحیح اور ان روایتوں کی تغلیط کرنا مقصود ہے جن میں یہ ہے کہ خانہ کعبہ ہمیشہ کے لئے ویران کر دیا جائے گا۔ پھر وہ کبھی آباد نہ ہو گا۔ یہ قرآن مجید کی اس صریح پیشگوئی کے خلاف ہے جس کا ذکر باب ۴۶ و ۴۷ کے عناوین میں بحوالہ آیات کیا گیا ہے۔ أَفَحَج کے معانی پھڑا ۔ اصلع ٹیڑھی پنڈلیوں والا - أَقْرَعَ گنجا ۔ اَفْطَسَ چیٹی ناک والا ؛ جسے پنجابی میں پھینا کہتے ہیں ۔ افرع ، افَيُرَع ٹیڑھے جوڑوں والا ؟ بے ڈول ۔ أصمع چھوٹے کانوں والا ۔ حَمُشُ السَّاقَيْنِ جس کی پنڈلیوں پر پھنسیوں کے داغ ہوں۔ بَاب ٥٠ : مَا ذُكِرَ فِي الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ حجر اسود کے متعلق جو کچھ ذکر کیا گیا ہے ١٥٩٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ۱۵۹۷: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ سُفیان ثوری) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے اعمش إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ سے ، اعمش نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ جَاءَ إِلَى عابس بن ربیعہ سے، عابس نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ فَقَبَّلَهُ فَقَالَ إِنِّي أَعْلَمُ سے روایت کی کہ وہ حجر اسود کے پاس آئے اور اس کو أَنَّكَ حَجَرٌ لَا تَضُرُّ وَلَا تَنْفَعُ وَلَوْلَا چوما اور کہا: میں خوب جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہی۔ أنِّي رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے نقصان دے سکتا ہے نہ نقصان دے سکتا ہے نہ نفع اور اگر میں نے نبی يُقَبِّلُكَ مَا قَبَّلْتُكَ۔ اطرافه ١٦٠٥، ١٦١٠۔ ہے؟ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھا ہوتا تو تجھے ہرگز نہ چومتا ۔ مستدرک على الصحيحين، كتاب المناسک، باب من اراد الحج فليتعجل، جزء اصفحه ۴۴۸)