صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 197 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 197

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۹۷ ٢٥ - كتاب الحج أُطَيِّبُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم کو جب آپ احرام باندھتے خوشبو لگایا وَسَلَّمَ لِإِحْرَامِهِ حِيْنَ يُحْرِمُ وَلِحِلِّهِ کرتی تھی اور ایسا ہی جب آپ احرام کھولتے یعنی قَبْلَ أَنْ يَطُوْفَ بِالْبَيْتِ۔ اطرافه: ١٧٥٤، ٥٩٢٢، ٥٩٢٨، 5930۔ بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ۔ تشريح : الطَّيِّبُ عِندَ الْإِحْرَامِ وَمَا يَلْبَسُ : عنوانِ باب می کئی ایک باتیں جن کا تلق عام زینت کے ساتھ ہے؛ جمع کر کے مسئلہ کی اصل نوعیت واضح کی ہے۔ یعنی خوشبو لگانا، کنگھی کرنا، بالوں میں تیل لگانا، پھول سونگھنا، آئینہ دیکھنا اور انگوٹھی پہننا وغیرہ۔ اس فہرست میں امام موصوف نے وَمَا يَلْبَسُ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ کہ کر بعض قسم کے سلے ہوئے لباس کا بھی ذکر کیا ہے جو عند الضرورت پہننا پڑے۔ باب ۲۱ میں بھی لباس سے متعلق سوال اُٹھایا گیا ہے۔ لیکن وہاں قسم لباس مراد ہے۔ بعض فقہاء نے معمولی قسم کی زینت کی اشیاء کو بھی بوقت احرام مطلق ممنوع قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ابوبکر بن ابی شیبہ نے حضرت جابر سے خوشبودار پھول سونگھنے کی کراہیت کا ، طاؤس سے آئینہ دیکھنے کی ممانعت کا اور مجاہد سے ان کا یہ فتوی نقل کیا ہے کہ نقل کیا ہے کہ اِنْ تَدَاوَى بِالسَّمنِ أَوِ الزَّيْتِ فَعَلَيْهِ دَم) اگر گھی یا زیتون کے تیل سے ہاتھ پیر پھٹنے کا علاج کیا جائے تو قربانی دینی ہوگی ۔ پھول سونگھنا امام شافعی کے نزدیک ممنوع اور امام مالک اور احناف کے نزدیک مکروہ ہے۔ اس قسم کے فتاوی کارڈ ان ابواب میں مقصود ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۰۰ ) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۱۵۳) بحالت احرام مرد کے لئے سلے ہوئے کپڑے پہنا جائز نہیں۔ مگر بیٹی جس میں نقدی رکھی جاتی ہے وہ ایک ضرورت کے لئے ہے اور جائز ہے۔ ایسا ہی حضرت عائشہ نے ایک بارحج کے سفر میں چھوٹے پائجامے ( ٹکریں ) لڑکوں کو پہننے کے لئے کہا۔ کیونکہ وہ (ازار ) نہ بند باندھے ہوئے تھے۔ کجاوہ باندھنے کی حالت میں برہنگی ہو جاتی تھی۔ یہ سلے ہوئے کپڑے پہنے کی اجازت بھی حالات کے تحت تھی۔ محرم کے لئے اس کے استعمال کی اجازت نہیں ہوتی۔ يَتَدَاوَى بِمَا يَأْكُلُ الزَّيْتِ وَالسَّمُنِ: میں بِمَا بِالَّذِی کے معنوں میں ہے۔ یعنی جو دہ کھاتا ہے۔ زیتون کا تیل اور گھی وغیرہ بطور علاج استعمال کرنا جائز ہے۔ ابوبکر ابن ابی شیبہ نے بھی حضرت ابن عباس کی یہ روایت نقل کی ہے : يَتَدَاوَى الْمُحْرِمُ اور ان کی یہ روایت بھی مذکور ہے : إِذَا تَشَقَّقَتْ يَدَا الْمُحْرِمِ أَوْ رِجْلَاهُ فَلْيَدَّهَنُهُمَا بِالزَّيْتِ أَوْ بِالسَّمْنِ۔ (مصنف ابن ابی شیبه، کتاب الحج، باب فيما يتداوى المحرم، جزء ۳۰ صفحه ۱۴۷، روایت نمبر ۱۳۹۲۱ ۱۲۹۲۲) یعنی محرم کے ہاتھ پاؤں اگر پھٹ جائیں تو ان پر تیل یا گھی لگانا جائز ہے۔ يَتَخَتَّمُ وَيَلْبَسُ الْهِمْيَانَ : انگوٹھی اور بیٹی پہنے کی بابت تمام فقہاء نے اجازت دی ہے؛ سوائے اسحاق کے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۵۰۰) قَالَ عَطَاءٌ يَتَخَتَّمُ وَيَلْبَسُ الْهِمْيَانَ ۔ یعنی انگوٹھی اور کمر بند پہنے۔ عطاء اور حضرت ابن عباس کا یہی فتویٰ دار قطنی نے نقل کیا ہے ۔ (سنن الدار قطنی، کتاب الحج، جز ۲ صفحہ ۲۳۳، روایت نمبر ۷۱ )