صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 185 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 185

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۸۵ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ۹ : مُهَلُّ أَهْلِ الشَّأْمِ اہل شام کے احرام باندھنے کی جگہ ١٥٢٦ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۵۲۶ مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) حماد حَمَّادٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ (بن زید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو بن دینار عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ سے، عمرو نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن وَقَتَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عباس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ ذَا الْحُلَيْفَةِ وَلِأَهْلِ الشَّأْمِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ کے لئے الْجُحْفَةَ وَلِأَهْلِ نَجْدٍ قَرْنَ الْمَنَازِلِ ذوالحلیفہ ، اہل شام کے لئے جحفہ، اہل نجد کے وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ يَلَمْلَمَ فَهُنَّ لَهُنَّ وَلِمَنْ لئے قرن المنازل اور اہل یمن کے لئے یلملم احرام أَتَى عَلَيْهِنَّ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِنَّ لِمَنْ كَانَ باندھنے کے مقامات مقرر کئے ۔ یہ ان ملکوں کے لئے بھی ہیں اور جو اُن میں دوسرے ملکوں سے آئیں۔ يُرِيدُ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ فَمَنْ كَانَ یعنی ان کے لئے جو حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں اور دُونَهُنَّ فَمُهَلَّهُ مِنْ أَهْلِهِ وَكَذَاكَ حَتَّی جو لوگ ان کے درے رہتے ہوں تو اُن کے احرام أَهْلُ مَكَّةَ يُهِلُوْنَ مِنْهَا ۔ اطرافه: ١٥٢٤، ١٥٢٩، 1530، 1845۔ باندھنے کی جگہ ان کے اپنے گھر ہی ہیں۔ اسی طرح اہل مکہ بھی مکہ ہی سے احرام باندھیں ۔ بھی تعیین ہے اور اُن باشندوں کیلئے تشریح : روایت نمبر ۱۵۲۶ میں دوسرے ممالک سے آنے والوں کے میقات کی بھی تعین۔ کی eeeen بھی جو مذکورہ بالا مقامات اور مکہ مکرمہ کے درمیان ہیں۔ ان کی اپنی بستی ہی ان کے لیے میقات احرام ہے۔ بَاب ۱۰ : مُهَلُّ أَهْلِ نَجْدٍ اہل نجد کے لئے احرام باندھنے کی جگہ ١٥٢٧: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا ۱۵۲۷: علی بن مدینی) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) سُفْيَانُ حَفِظْنَاهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) ہم نے