صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 184
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۸۴ ٢٥ - كتاب الحج بَاب : مِيْقَاتُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَلَا يُهِلُّوْا قَبْلَ ذِي الْحُلَيْفَةِ اہل مدینہ کے لئے احرام باندھنے کی جگہ اور وہ ذوالحلیفہ سے پہلے احرام نہ باندھیں ١٥٢٥: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۱۵۲۵ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ) کہا :) مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، عَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يُهِلُّ أَهْلُ الْمَدِينَةِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ اللدينہ ذوالحلیفہ سے احرام باندھیں اور وَأَهْلُ الشَّأْمِ مِنَ الْجُحْفَةِ وَأَهْلُ نَجْدِ اہل شام جحفہ سے اور اہل نجد قرن سے۔مِنْ قَرْنٍ قَالَ عَبْدُ اللهِ وَبَلَغَنِي أَنَّ حضرت عبداللہ بن عمر) کہتے تھے اور مجھے یہ خبر : رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: وَيُهِلُ أَهْلُ الْيَمَنِ مِنْ يَلَمْلَمَ۔اور اہل یمن یلملم سے احرام باندھیں۔اطرافه ۱۳۳، ۱۵۲۲، ۱۹۲۷، ۱۵۲۸ تشریح مِيقَاتُ اَهْلِ الْمَدِينَةِ : عنوانِ باب میں ذوالحلیفہ سے قبل احرام نہ باندھنے کے متعلق جو فقرہ زائد کیا گیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک فریق کا یہ خیال ہے کہ حضرت ابن عباس و حضرت ابن عمر و حضرت ابن مسعودؓ وغیرہ صحابہ نے میقات سے پہلے احرام باندھا تھا۔(بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في شروط الاحرام) امام بخاری کے نزدیک ایسی روایتیں جن میں ذوالحلیفہ سے قبل احرام باندھنے کا ذکر ہے ؛ قابل اعتماد نہیں۔ہجرت کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جوف مدینہ کو حرم قرار دے دیا۔جو تقریبا ساڑھے دس میل لمبا اور دس میل چوڑا ہے اور چاروں طرف پہاڑوں سے گھرا ہوا ہے۔جن میں متعدد بستیاں تھیں۔ان بستیوں کے درمیان یثرب کی بستی واقع تھی جو آنحضرت ﷺ کی ہجرت گاہ ہوئی۔جحفہ، ذو الحليفه، وادئ عقيق، بئر رومه، غابه، وادئ قناہ اور وادئ بطحاء اسی میدانِ جوف میں واقع ہیں۔