صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 156 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 156

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۶ ٢٤ - كتاب الزكاة أَبْوَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ 0000000000 بَاب ۷۰ : فَرْضُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ صدقہ فطر کا فرض ہونا وَرَأَى أَبُو الْعَالِيَةِ وَعَطَاء وَابْنُ اور ابو العالیہ، عطاء اور ابن سیرین صدقہ فطر کو فرض سِيْرِيْنَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ فَرِيضَةً۔ سمجھتے تھے۔ ١٥٠٣ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ ۱۵۰۳: يحي بن محمد بن سکن نے ہم سے بیان کیا، ابْنِ السَّكَنِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمِ ) کہا :) محمد بن جہضم نے ہمیں بتایا ، ( کہا: ) اسماعیل حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عُمَرَ بن جعفر نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمر بن نار بن نافع سے، بْنِ نَافِعٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ عمر نے اپنے باپ سے، انہوں نے ( حضرت عبداللہ ) اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ وہ کہتے تھے: اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صاع کھجور یا ایک تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيْرٍ عَلَى الْعَبْدِ صاع جو زکوة فطر مسلمانوں پر فرض کی ہے خواہ غلام وَالْحُرِّ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيْرِ ہو یا آزاد، مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا چھوٹا اور آپ وَالْكَبِيْرِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ نے حکم دیا کہ وہ ادا کی جائے پیشتر اس کے کہ لوگ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ۔ نماز کے لئے نکلیں۔ اطرافه: 1٥٠٤، 1500 ، 1509، 1511، 1517۔ تشريح : فَرُضُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ : صدق قطر وفقہاء میں سے ایک فریق (احناف ) واجب اور ایک دوسرا فریق سنت موکدہ قرار دیتا ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۴۶۳) عنوان باب میں جن فقہاء کے فتوی کا حوالہ الفاظ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ أَبْوَابُ صَدَقَةِ الْفِطْرِ عمدۃ القاری کے مطابق ہیں۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۱۰۷)