صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 157
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۷ ٢٤ - كتاب الزكاة دیا گیا ہے، انہوں نے اس کی فرضیت سے متعلق تصریح کی ہے۔ابو العالیہ رفیع بن مہران ریاحی بصری نے حضرت ابوبکر صدیق کا زمانہ پایا اور انہیں دیکھا۔قرآن کریم کے بہت بڑے عالم تھے۔۹۰ھ میں فوت ہوئے۔(تھذیب التھذیب، حرف الراء المهملة، من اسمه رفيع، جز ۳ صفحه ۲۴۶) یہ تینوں فقہاء مشہور ثقہ تابعین میں سے ہیں۔روایت نمبر ۱۵۰۳ میں بجائے صدقہ فطر؛ زکوۃ کا لفظ ہے جو اس صدقے کی فرضیت پر دال ہے۔حکم وَآتُوا الزَّكَاةَ کی تشریح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جس طرح فرمائی ہے، اسے قبول کرنا فرض ہے اور الفاظ عَلَى الْعَبْدِ وَالْحُرِ وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بھی اسی فرضیت کو ظاہر کرتے ہیں۔حدیث نمبر ۱۵۰۳ اور تو اتر دونوں مسئلہ معنونہ کی تائید میں ہیں۔بَاب ۷۱: صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى الْعَبْدِ وَغَيْرِهِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مسلمانوں میں سے غلام وغیرہ پر صدقہ فطر کی فرضیت ١٥٠٤: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۱۵۰۴ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا، يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ نَّافِعٍ عَنِ ابْنِ ) کہا : ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ زَكَاةَ که رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ فطر ایک الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ صاع کھجور یا ایک صاع جو ہر آزاد یا غلام، مرد یا شَعِيْر عَلَى كُلّ حُرٍ أَوْ عَبْدِ ذَكَرٍ أَوْ عورت مسلم پر فرض کی۔أُنْثَى مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ۔اطرافه ۱۵۰۳، ۱۵۰۷، ۱۵۰۹، ۱۵۱۱، ۱۵۱۲۔تشریح: کیا گیا ہے۔صدقہ فطر فرض ہونے کی وجہ سے ہی غلاموں ، نوکروں اور بچوں کی طرف سے دیا جاتا ہے۔امام مالک کی روایت مذکورہ بالاقتیبہ بن سعید نے بھی نقل کی ہے اور اس میں مِنَ الْمُسْلِمِینَ کے الفاظ نہیں۔لیکن باقی تمام سندوں میں یہ الفاظ ہیں۔اسی لئے امام موصوف نے عنوانِ باب میں ان الفاظ کو نمایاں کیا ہے۔صَدَقَةُ الْفِطْرِ عَلَى الْعَبْدِ وَغَيْرِهِ : یہ باب بھی سابقہ مضمون کی مزید وضاحت کے لئے قائم (تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۶۶-۴۶۷)