صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 152 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 152

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۵۲ ٢٤ - كتاب الزكاة بَاب ٦٧ : قَوْلُ اللهِ تَعَالَى وَالْعَمِلِينَ عَلَيْهَا (التوبة : ٦٠) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ زکوۃ کے حاصل کرنے والوں کو بھی دیا جائے وَمُحَاسَبَةُ الْمُصَدِّقِيْنَ مَعَ الْإِمَامِ۔ اور صدقات وصول کرنے والوں کا امام کے ساتھ حساب کتاب کرنا۔ ١٥٠٠ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ۱۵۰۰ : يوسف بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا: ) ہشام بن عروہ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ نے ہمیں بتایا ۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے السَّاعِدِي رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ اسْتَعْمَلَ باپ نے حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا روایت کی کہ وہ کہتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسد قبیلہ کے ایک شخص کو بنی سلیم کے صدقات کو مِنَ الْأَسْدِ عَلَى صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَى ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَ حَاسَبَهُ۔ وصول کرنے کے لئے مقرر کیا۔ اسے ابن اللتبيه کہتے تھے۔ جب وہ آیا تو آپ نے اس سے حساب لیا۔ اطرافه: ۹۲۵ ٢٥۹۷، 6636، 6979، 7174، 7197۔ تشريح: مُحَاسَبَةُ الْمُصَدِّقِينَ : زکوۃ کے مصر میں کارکنان تحصیل زکوۃ ادنی و الی سب شامل ہیں۔ سابقہ باب کی تشریح میں بیان کیا جا چکا ہے کہ کسی فرد کے لئے جائز نہیں کہ وہ زکوۃ کا خود حساب کر کے اُسے اپنے یا غیر کے لئے خرچ کرے۔ حتی کہ محصلین بھی پابند ہیں کہ وہ زکوۃ کا حساب امام کے سامنے پیش کریں۔ اس میں سے خود بخودا۔ خود بخود اپنے لئے رکھ لینا جائے لینا جائز نہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حضرت عبداللہ بن لتنبیہ سے جائزہ لینے کا واقعہ مختصراً یہی بات ذہن نشین کرانے کے لئے نقل کیا گیا ہے کہ یا گیا ہے کہ قرآن مجید نے جن اف نے جن افراد کو زکوٰۃ کا مستحق ٹھہرایا ہے، ان کے لئے جائز نہیں کہ وہ بغیر اجازت امام کے زکوۃ میں سے اپنے لئے رکھ لیں۔ حضرت عبداللہ بن لتنبیہ کے پاس زکوۃ کے مال میں سے کچھ پایا گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اطلاع ملنے پر ان سے حساب لیا تو انہوں نے کہا کہ یہ مال بطور ہدیہ انہیں دیا گیا تھا۔ آپ نے فرمایا: پھر گھر میں کیوں نہ بیٹھے رہے۔ وہیں ہدیہ پہنچ جاتا ۔ (کتاب الهبة روایت نمبر ۲۵۹۷) قرآن مجید نے مصرف زکوۃ میں محتاجوں کا حق کا رکنوں کے حق پر مقدم رکھا ہے۔ لیکن اس کے برعکس پبلک روپے کا بیشتر حصہ کارکنوں پر خرچ کر دیا جاتا ہے۔