صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 133 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 133

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة فَيَجِيءُ هَذَا بِتَمْرِهِ وَهَذَا مِنْ تَمْرِهِ کٹائی کے وقت پختہ کھجور میں لائی جاتیں تو یہ بھی اپنی حَتَّى يَصِيْرَ عِنْدَهُ كَوْمًا مِّنْ تَمْرٍ فَجَعَلَ کھجوریں لاتا اور وہ بھی ۔ یہاں تک کہ آپ کے پاس الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کھجوروں کا ڈھیر ہو جاتا اور حضرت حسن اور حضرت يَلْعَبَانِ بِذَلِكَ التَّمْرِ فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا حسین رضی اللہ عنہا کھجوروں سے کھیلنے لگتے۔ ان میں تَمْرَةً فَجَعَلَهُ فِي فِيْهِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُوْلُ سے ایک نے کھجور لے کر اپنے منہ میں ڈال لی۔ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجَهَا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو دیکھ لیا اور ان مِنْ فِيْهِ فَقَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ آلَ مُحَمَّدٍ کے منہ سے وہ کھجور نکال دی اور فرمایا: کیا تمہیں معلوم لَا يَأْكُلُوْنَ الصَّدَقَةَ۔ اطرافه: ١٤٩١، ٣٠٧٢۔ نہیں کہ محمد کی آل زکوۃ کا مال نہیں کھاتی۔ أَخُذُ صَدَقَةِ التَّمْرِ عِنْدَ صِرَامِ النَّخْلِ : امام مالک اور امام ابـ اور امام ابو حنیفہ رحمہما اللہ کے نزدیک تشریح الا الله تگی سے پہلے جو پھل استعمال میں لایا جائے ؟ زکوۃ الایا جائے ؟ زکوة لیتے وقت اُس کا بھی اندازہ کا بھی اندازہ کر کے حق واجب لینا چاہیے۔ مگر امام شافعی کے نزدیک وہ محسوب نہ ہوگا ۔ اس اختلاف میں امام شافعی نے ایسی حدیثوں سے استدلال کیا ہے جن میں بایں الفاظ صراحت ہے: خَفِّفُوا فِي الْخَرْصِ فَإِنَّ فِي الْمَالِ الْعَرِيَّةَ وَالْأَكْلَة ۔۔۔ یعنی اندازہ کرنے میں سہولت سے کام لو؛ کیونکہ اُس میں سے عطیہ بھی دیا جاتا ہے اور کھایا بھی جاتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِذَا خَرَصْتُمْ فَدَعُوا الثُلُثَ فَإِنْ لَّمْ تَدَعُوا الثُّلُثَ فَدَعُوا الرُّبْعَ۔ یعنی جب تم اندازہ کرو تو ایک تہائی چھوڑ دو۔ اگر ایک تہائی نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی ہی۔ امام موصوف اور امام شافعی نے قرآن مجید کا یہ صریح ارشاد بھی بطور دلیل پیش کیا ہے: كُلُوا مِنْ ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَاتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ۔ (الأنعام: ۱۴۲) یعنی جب پھل لگے تو کھاؤ اور کٹائی کے وقت اُس کا حق دو۔ حق زکوۃ کی ادائیگی کٹائی کے ساتھ وابستہ کی گئی ہے۔ (بداية المجتهد، كتاب الزكاة، الجملة الثالثة، الفصل الخامس فى نصاب الحبوب والثمار، المسئلة الثالثة) غرض کٹائی سے پہلے پھل استعمال کرنے کی اجازت محدود رنگ میں ہے۔ مذکورہ بالا اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ وَاتُوا حَقَّهُ میں ضمیر کا مرجع مال کی طرف ہے۔ یعنی سارے مال کا اندازہ کیا جائے ۔ مگر امام شافعی نے مشار الیہا روایات کو اس حکم کے لئے بطور تشریح خیال کیا۔ کیا ہے۔ وَاتُوا حَقَّهُ کے حکم سے متعلق یہ بھی اختلاف ہوا ہے کہ آیا حق سے مرادز کو ۃ ہے یا مطلق صدقہ ۔ عنوان باب میں صَدَقَة کا لفظ اختیار کر کے اسے مطلق صدقہ قرار دیا ہے؛ جس میں زکوۃ شامل ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۴۴۲ ) باب ۵۷ کے تحت جو روایت درج کی گئی ہے، اس سے بھی صریح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صدقے کی پختہ کھجوریں کٹائی کے بعد لائی جاتیں۔