صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 134 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 134

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۴ ٢٤ - كتاب الزكاة هَلْ يُتْرَكُ الصَّبِيُّ فَيَمَسُّ تَمُرَ الصَّدَقَةِ: آپ نے ایک موقع پر حضرت امام حسن کو جبکہ وہ کسن تھے کھجور کھانے کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ ان کے منہ سے نکال کر پھینک دی۔اس سے ایک مسئلہ تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدقے کا اعتبار اُس وقت سے ہے جبکہ پھل بطور صدقہ دئے جائیں نہ اُس وقت جبکہ وہ درخت پر ہوں۔دوسرا امر آپ کے اسوہ حسنہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آپ نے بچے کو معصوم ہونے کی وجہ سے آزادی نہیں دی؛ بلکہ اس کی تربیت فرمائی۔باغ کے پھل ضائع کرنے والے چونکہ اکثر بچے ہوتے ہیں۔گو ایسا پھل جو گھر کی ضرورت کے لئے استعمال میں آئے، زکوۃ نکالتے وقت محسوب نہیں ہوگا۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ بچے پھل ضائع کرنے سے نہ رو کے جائیں۔بلکہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ان پھلوں کی حفاظت کی جائے کیونکہ ضائع ہونے کا اثر صدقے پر پڑے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہمارے سامنے ہے کہ ایک کھجور جو صدقے کی تھی، اس کے متعلق بھی اہتمام فرمایا۔اسی اسوہ حسنہ کی طرف توجہ دلانے کے لئے عنوانِ باب میں هَلْ يُتْرَكُ الصَّبِيُّ فَيَمَسُّ تَمْرَ الصَّدَقَةِ کے الفاظ اختیار کئے گئے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آل کے صدقہ لینے یا نہ لینے کا جو مسئلہ ہے، اس کا ذکر الگ باب (نمبر ۶۰ ) میں آئے گا۔باب ٥٨ مَنْ بَاعَ ثِمَارَهُ أَوْ نَخْلَهُ أَوْ أَرْضَهُ أَوْ زَرْعَهُ وَقَدْ وَجَبَ فِيْهِ الْعُشْرُ أَوِ الصَّدَقَةُ فَأَدَّى الزَّكَاةَ مِنْ غَيْرِهِ جو شخص اپنے میوے یا کھجور کا درخت یا اپنی زمین یا اپنا کھیت بیچ دے بحالیکہ اس میں دسواں حصہ یا صدقہ (زکوۃ ) واجب ہو چکا ہو اور یہ زکوۃ اپنے دوسرے مال سے ادا کرے يَحْظُرِ الْبَيْعَ بَعْدَ الصَّلَاحِ عَلَى أَحَدٍ وَلَمْ يَخُصَّ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الزَّكَاةُ أَوْ بَاعَ ثِمَارَهُ وَلَمْ تَجِبْ فِيْهِ الصَّدَقَةُ یا اپنے میوے کو بیچے اور اس میں صدقہ زکوۃ ابھی وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا واجب نہیں ہوئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: تَبِيْعُوا الثَّمَرَةَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا فَلَمْ میوے کو اُس وقت تک نہ بیچا کرو جب تک کہ اُس میں پختگی ظاہر نہ ہو اور پختگی کے بعد کسی کو بیچنے سے منع نہیں فرمایا اور نہ آپ نے ( بیچنے کی اجازت دینے میں ) اُن لوگوں کو جن پر زکوۃ واجب ہوگئی ہو، اُن لوگوں پر کوئی خصوصیت دی ہے جن پر واجب نہ ہوئی ہو۔۱۴۸۶: حجاج بن منهال) نے ہم سے بیان کیا، شُعْبَةُ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ) کہا :) شعبہ نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) عبداللہ مِمَّنْ لَّمْ تَجِبْ ١٤٨٦: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ حَدَّثَنَا