صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 130
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۳۰ ٢٤ - كتاب الزكاة جو اشیاء ذریعہ کسب معاش ہو سکتی ہیں ان میں سے ہر شئے پر زکوۃ عائد ہوگی ؛ بشرطیکہ وہ بقدر نصاب ہوں ۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا تَفْسِيرُ الأَوَّلِ ۔۔۔۔۔۔ ان الفاظ کا اختصار ترجمے میں واضح کر دیا گیا ہے۔ اس اختصار میں حضرت ابو سعید خدری کی روایت نمبر ۱۴۴۷، ۱۴۵۹ کی طرف اشارہ موجود ہے۔ یہ روایت نمبر ۱۴۸۴ میں بھی دہرائی گئی ہے۔ اس میں اجمال ہے۔ مگر روایت نمبر ۱۴۸۳ میں وضاحت ہے کہ کسی شرط کے تحت کھیتی یا درختوں میں کتنی زکوۃ واجب ہے۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت میں صرف نصاب کی تعیین کی گئی ہے۔ بَاب ٥٦ : لَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسَةِ أَوْ سُقٍ صَدَقَةٌ پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں ١٤٨٤: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۴۸۴ مسدد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) یچی يَحْيَى حَدَّثَنَا مَالِكٌ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بن سعید قطان ) نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مالک نے ہمیں بتایا۔ کہا محمد بن عبداللہ بن عبدالرحمن صَعْصَعَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ بن ابي صعصعہ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ سے، ان کے باپ نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے، حضرت ابوسعید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لَيْسَ فِيْمَا أَقَلُّ مِنْ خَمْسَةِ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: جو چیز پانچ وسق أَوْ سُقٍ صَدَقَةٌ وَلَا فِي أَقَلَّ مِنْ خَمْسَةٍ سے کم ہو، اس میں صدقہ (زکوۃ نہیں اور نہ پانچ مِنَ الْإِبِلِ الدَّوْدِ صَدَقَةٌ وَلَا فِي أَقَلَّ مہار اونٹوں سے کم میں صدقہ ہے اور نہ پانچ اوقیہ مِنْ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ۔ چاندی سے کم میں صدقہ ہے۔ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ هَذَا تَفْسِيرُ الْأَوَّلِ إِذَا ابو عبد الله (بخاری) نے کہا: یہ پہلے ( قول ) کی قَالَ لَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسَةِ أَوْسُقِ تفسیر ہے۔ جب آپ نے فرمایا کہ پانچ وسق سے کم صَدَقَةٌ لِكَوْنِهِ لَمْ يُبَيِّنْ * } وَيُؤْخَذُ أَبَدًا میں زکوۃ نہیں۔ { کیونکہ راوی نے کھول کر بیان نہیں کیا } اور ( قاعدہ یہ ہے کہ ) ہمیشہ علم میں ان کے فِي الْعِلْمِ بِمَا زَادَ أَهْلُ النَّبَتِ أَوْ بَيَّنُوا قول کو اختیار کیا جاتا ہے کہ جو ال ثقہ زائد بات اطرافه: ١٤٠٥، ١٤٤٧، ١٤٥٩۔ بتائیں یا اس کی شرح کریں۔ الفاظ لِكَوْنِهِ لَمْ يُبَيِّنُ " عمدة القاری کے مطابق ہیں ۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۷۷ ) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔