صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 124
صحيح البخاري - جلد۳ ۱۳ ٢٤ - كتاب الزكاة قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ صَالِحُ بُنُ كَيْسَانَ اَكْبَرُ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ قَدْ أَدْرَكَ ابْنَ عُمَرَ : روایت نمبر ۱۴۷۸ صالح بن کیسان سے مروی ہے۔زہری ۵۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۲۳ھ میں فوت ہوئے اور صالح بن کیسان ۱۴ ھ میں فوت ہوئے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے ملاقات کی اور اُن سے باتیں سنیں۔مگر زہری حضرت عبد اللہ بن عمر سے نہیں مل سکے۔بلکہ وہ سالم بن عبد اللہ بن عمر سے ملے اور اُن سے حضرت عبد اللہ بن عمر کی مروی روایتیں سنیں۔(فتح الباری، جزء ۳۰ صفحه ۴۳۲) بَاب ٥٤ : خَرْصُ التَّمْرِ کھجوروں کا درختوں پر تخمینہ کرنا ١٤٨١: حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ :۱۴۸۱ سہل بن بکار نے ہم سے بیان کیا، کہا: ) حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى وهيب ( بن خالد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن عَنْ عَبَّاسِ السَّاعِدِي عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ يحي سے، عمرو نے عباس ساعدی سے، ساعدی نے السَّاعِدِي قَالَ غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت کی کہ انہوں نے اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةَ تَبُوكَ فَلَمَّا جَاءَ کہا: غزوہ تبوک میں ہم نبی ﷺ کے ساتھ نکلے۔وَادِيَ الْقُرَى إِذَا امْرَأَةٌ فِي حَدِيْقَةٍ لَهَا جب آپ وادی قری میں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ایک عورت اپنے باغ میں ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم لِأَصْحَابِهِ اخْرُصُوْا وَخَرَصَ رَسُوْلُ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: اندازہ لگاؤ کتنی کھجور ہوگی؟ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشَرَةَ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے دس وسق کا اندازہ لگایا أَوْ سُقٍ فَقَالَ لَهَا أَحْصِيْ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا اور آپ نے اُس عورت سے فرمایا: شمار کرنا جو کھجور فَلَمَّا أَتَيْنَا تَبُوْكَ قَالَ أَمَا إِنَّهَا سَتَهُبُّ اس باغ سے نکلے۔جب ہم تبوک میں آئے تو آپ اللَّيْلَةَ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَلَا يَقُوْمَنَّ أَحَدٌ نے فرمایا: ہوشیار رہنا۔آج رات سخت آندھی چلے گی وَمَنْ كَانَ مَعَهُ بَعِيْرٌ فَلْيَعْقِلْهُ فَعَقَلْنَاهَا اور کوئی کھڑا نہ رہے اور جس کے ساتھ اونٹ ہو وہ وَهَبَّتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ فَقَامَ رَجُلٌ فَأَلْقَتْهُ اُس کے گھٹنے باندھ دے۔چنانچہ ہم نے اُن کو باندھ بِجَبَلِ طَيْءٍ وَأَهْدَى مَلِكُ أَيْلَةَ لِلنَّبِيِّ دیا اور زور کی آندھی چلی۔ایک شخص کھڑا تھا تو آندھی