صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 115
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۱۵ ٢٤ - كتاب الزكاة تشريح : مَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ غَيْرِ مَسْئَلَةٍ وَلَا اِشْرَافِ نَفْسٍ : امام بخاری نے عنوانِ باب ”من“ سے قائم کر کے اور مذکورہ بالا آیت کا حوالہ دے کر جملہ شرطیہ کا جواب محذوف کر دیا ہے۔ آیت باب ”من“ سے قائم کر کے سے ظاہر ہے کہ دولتمندوں کی دولت میں دوسروں کا حق ہے۔ بغیر سوال کے اگر یہ حق کسی کو دیا جائے تو کیا وہ لینے سے انکار فتح الباری کر سکتا ہے؟ امام بخاری نے اس کا جواب اس لئے حذف کر دیا ہے کہ اس کا تعلق مختلف حالات سے ہے۔ آنحضرت علی صلى الله نے حضرت عمر کو بیت المال سے بطور حق دیا تھا۔ آپ نے اُن کو عامل یعنی محصل زکوۃ مقرر کیا تھا۔ (فتح) جز ۳۰ صفحہ ۴۲۵) قرآن مجید کے ارشاد وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا (التوبة: (۶۰) کے مطابق انہیں اس خدمت کا حق ملنا چاہیئے تھا۔ مگر انہوں نے لینے سے انکار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے اس شبہ کا ازالہ فرمایا کہ لینے کیلئے فقر وفاقہ ہی شرط نہیں ۔ حضرت عمر نے یہ سن کر کہا: آپ کا عطیہ میں نے قبول کر لیا۔ یہاں دونوں صورتیں پائی جاتی ہیں۔ سوال بھی نہیں اور لالچ نفس بھی نہیں۔ الْمَحْرُوم كے معنى الْمُتَعَفِّفُ الَّذِى لَا يَسْأَلُ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۴۲۵ ) یعنی عفیف جو باوجود احتیاج کے نہیں مانگتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بے زبان جانوروں کو بھی الْمَحْرُوم کے ذیل میں شمار کیا ہے۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی، زیر عنوان ایصالِ خیر کی اقسام ، صفحہ ۴۳ - روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۵۷) قرآن مجید نے ایسے عمال یعنی کارکنوں کو جو غنی ہوں، ارشاد فَلْيَسْتَعْفِفْ سے ترغیب دی ہے کہ وہ اموال یتامی کی حفاظت کا حق معاوضہ نہ اوضہ نہ لیں۔ (النساء: ۷) قومی خدمات میں بھی یہی ارشا د ملحوظ رکھا جا سکتا ہے ۔ حضرت عم ہے۔ عمر نے بتقاضائے جذبہ ایثارا انکار کیا تھا۔ مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی احتیاج کا اچھی طرح علم تھا۔ خود ان کے اپنے الفاظ مَنْ هُوَ افقَرُ مِنِّی بھی دلالت کرتے ہیں کہ وہ دولتمند نہ تھے۔ باب ٥٢ : مَنْ سَأَلَ النَّاسَ تَكَثُرًا جو لوگوں سے اپنی دولت بڑھانے کے لئے مانگے ١٤٧٤: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۱۴۷۴: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا کہ عبید اللہ بن ابی جعفر جَعْفَرٍ قَالَ سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے حمزہ بن ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عبداللہ بن عمر سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی ہمیشہ لوگوں سے النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي مانگتا رہتا ہے؟ یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ ایسی