صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 567 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 567

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۶۷ ٣٠ - كتاب الصوم وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلُ وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ اقْصِرُ وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذَلِكَ كُلُّ لَيْلَةٍ۔ یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کے مہینہ کی پہلی ت ہوتی ہے تو شیاطین اور سرکش جکڑ دیے جاتے ہیں اور جو اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جا۔ بند کر دیے جاتے ہیں۔ پھر اس کا کوئی دروازہ نہیں کھولا جاتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ اور ایک پکار نے والا پکارتا ہے: اے خیر کے طالب ! آگے بڑھ۔ اور اے بدی کے طالب ! لوٹ جا۔ اور اللہ کی خاطر بہت سے لوگ آگ سے آزاد کیے جاتے ہیں اور ایسا ہر رات ہوتا ہے۔ (ترمذی، کتاب الصوم، باب ماجاء في فضل شهر رمضان) ابن ماجه، كتاب الصيام، باب ماجاء في فضل شهر رمضان رمضان کی آمد سے نیکی کے بواعث حرکت میں آتے ہیں اور بدی کے محرکات کم ہو جاتے ہیں۔ رمضان کی برکت سے کئی لوگ آزاد ہو جاتے ہیں ۔ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ کا یہی مفہوم ہے کہ روزے کی غرض وغایت تقویٰ یعنی گناہ سے بچنا ہے۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس روایت کی سند ان کے معیار کے مطابق نہیں۔ اس لئے یہ نظر انداز کی گئی ہے۔ بَاب ٦ : مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا وَّنِيةً جو شخص رمضان کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی اُمید سے نیت کر کے رکھے، اُس کا ثواب وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنِ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبْعَثُونَ سے روایت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنی نیتوں کے عَلَى نِيَّاتِهِمْ۔ موافق اُٹھائے جائیں گے۔ ۱۹۰۱ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱۹۰۱ : مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ أَبِي (دستوائی) نے ہمیں بتایا۔ یحی ( بن ابی کثیر نے ہم سے سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بیان کیا۔ انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت صل الله سے، انہوں نبی انے کی علاقہ سے روایت عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابو ہریرہ ہے، مَنْ قَامَ لَيْلَةَ الْقَدْرِ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا کی کہ آپ نے فرمایا: جو کوئی لیلۃ القدر میں ایمان رکھ کر ثواب کی نیت سے عبادت میں کھڑا ہو، اُس کے غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَنْ صَامَ اگلے پچھلے گناہ بخش دیئے جائیں گے اور جوکوئی رمضان رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا کے روزے ایمان کے ساتھ ثواب کی نیت سے تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ۔ رکھے گا، اُس کے اگلے گناہ بخش دیئے جائیں گے۔ اطرافه ۳۵، ۳۷، ۳۸، ۲۰۰۸، ۲۰۰۹، ۲۰۱۴۔