صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 566 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 566

صحيح البخاری جلد ۳ ۵۶۶ ٣٠ - كتاب الصوم سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ﷺ سے سنا۔ سے سنا۔ آپ فرماتے تھے: جب تم اسے (چاند) يَقُوْلُ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُوْمُوا وَإِذَا دیکھو تو روزہ رکھو اور جب تم اسے دیکھو اسے دیکھو روزہ چھوڑ رَأَيْتُمُوهُ فَأَفْطِرُوْا فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ دو۔ اگر تمہیں ابر کی وجہ سے نظر نہ آئے تو پھر تم اُس فَاقْدُرُوا لَهُ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ کے لئے اندازہ کرلو۔ اور یچی کے ہوا اور لوگوں نے حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ وَيُونُسُ لِهِلَالِ لیٹ سے یوں نقل کیا: مجھ سے تحصیل اور یونس نے بیان رَمَضَانَ۔ کیا، (کہا: ) رمضان کے چاند کا اندازہ کرلو۔ اطرافه: ۱۹۰٦، ۱۹۰۷، ۱۹۰۸، ۱۹۱۳، ۵۳۰۲۔ تشريح : هَلْ يُقَالُ رَمَضَانُ أَوْ شَهْرُ رَمَضَانَ : علامہ ابن حجر کا خیا ہے کہ ابو ما ہے کہ ابو معشر نجیح کی کمزور ------- روایت رڈ کرنے کی غرض سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ چونکہ رمضان اسمائے الہی میں سے ہے، اس لئے رمضان نہ کہا کرو بلکہ ماہ رمضان کہا جائے ۔ ( فتح الباری جزء ۴ صفحہ ۱۴۶) علامہ عینی نے بھی عطاء اور مجاہد سے متعلق روایات نقل کی ہیں۔ وہ دونوں صرف رمضان کہنا نا پسند کرتے تھے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۲۶۵) اس باب کی تینوں روایتوں سے ظاہر ہے کہ ماہ رمضان کا نام لیا جائے یا نام نہ لیا جائے ، ہر طرح جائز ہے۔ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنِ اللَّيْثِ : غیر سے ابو صالح عبد اللہ بن صالح مراد ہیں جولیٹ کے کا تب تھے۔ اُن کی روایت کے یہ الفاظ ہیں : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ ﷺ يَقُولُ لِهِلَالِ رَمَضَانَ إِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَصُومُوا ( فتح الباری جز ۴ صفحه ۱۴۸) یعنی جب تم رمضان کا چاند دیکھو تو روزے رکھو۔ امام بخاری نے بھی کسی قدر لفظی اختلاف کے ساتھ یہ حدیث نقل کی ہے۔ دیکھئے باب نمبر ۔ رمضان رمض سے بروزن فعلان ہے۔ علامہ عینی نے اس لفظ کی تشریح میں بتایا ہے کہ یہ اسم علم نہیں بلکہ صفت ہے۔ قدیم زبانوں سے عربوں نے مہینوں کے جو نام نقل کئے ہیں اُن میں یہ نام نہ تھا بلکہ اس مہینے کا نام ناتق تھا۔ اس سے قبل جو شعبان کا مہینہ ہے، اس کا نام عازل تھا ۔ الْأَرْضُ رَمِضَةً یعنی گرم زمین - ارْتَمَضَ الرَّجُلُ مِنْ كَذَا أَى اشْتَدَّ عَلَيْهِ أَوْ أَقْلَقَهُ - یعنی وہ گھبرائے ہوئے آیا ۔ چونکہ روزے میں بھوک اور پیاس کی وجہ سے انسان گرمی کی شدت اور بے قراری محسوس کرتا ہے۔ اس لئے اس مہینے کا نام رمضان رکھا گیا۔ اسی طرح کہتے ہیں: رَمَضْتُ فِي الْمَكَانِ أَى احْتَبَسْتُ کہ میں اُس جگہ رک کر ٹھہر گیا؟ جیسا کہ اعتکاف میں انسان گوشہ نشین ہو جاتا ہے۔ ( عمدة القاری جزء ۱۰ صفحه ۲۶۵، ۲۶۶) (لسان العرب - رمض) روایت نمبر ۱۸۹۹ صحاح ستہ کی بعض کتابوں میں بایں الفاظ وارد ہوئی ہے جو بصورت استعارہ و مجاز ہیں : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ نَهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ لَهُ إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرٍ رَمَضَانَ صُفْدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ وَغُلِقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحُ مِنْهَا بَابٌ وَفُتِحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقُ مِنْهَا بَابٌ