صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 568
صحيح البخاری جلد ۳ ۵۶۸ ٣٠ - كتاب الصوم باب : أَجْوَدُ مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُوْنُ فِي رَمَضَانَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ جو سخاوت کرتے تو رمضان میں کرتے ۱۹۰۲ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ ۱۹۰۲ موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب نے ہمیں أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ خبر دی ۔ عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے مروی ہے کہ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: نبی صلی اللہ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نیکی میں سب لوگوں سے زیادہ سخی تھے اور وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ رمضان میں بہت ہی سخاوت کرتے تھے۔ جب مَا يَكُوْنُ فِي رَمَضَانَ حِيْنَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ حضرت جبرائیل آپ سے ملتے اور حضرت جبرائیل وَكَانَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ علیہ السلام رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات فِي رَمَضَانَ حَتَّى يَنْسَلِخَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ کرتے تھے، یہاں تک کہ ( رمضان ) گزر جاتا۔ نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ صلى اللہ علیہ وسلم قرآن کا دور کرتے ۔ جب حضرت فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو آپ نیکی میں تیز أَجْوَدَ بِالْخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ الْمُرْسَلَةِ۔ چلنے والی ہوا سے بھی زیادہ بھی ہوتے ۔ اطرافه ٦ ، ٣٢٢٠، ٣٥٥٤، ٤٩٩٧۔ : تشريح : أَجْوَدُ مَا كَانَ النَّبِيُّ عَل يَكُونُ فِي رَمَضَانَ : رمضان میں بحالت روزہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ سے اس کی غرض وغایت واضح ہو جاتی ہے۔ یعنی روزے سے نفس بشری کی اخلاقی اصلاح اور روحانی وقلبی ماهیت مقصود بالذات ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ فطرت کا خمیر سراسر نیکی سے اُٹھایا گیا تھا اور نیکی ہی آپ کے تمام اعمال میں غالب تھی اور رمضان میں آپ کی یہ پاکیزہ حالت زیادہ نمایاں نظر آ جاتی ۔ اس تعلق میں تشریح روایت نمبر 4 روایت نمبر ہ بھی دیکھئے۔ سابقہ ابواب نمبر ۶۱۲ کے مضمون پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا ضبط نفس ، شائستگی ، سلامت روی اور حسن سلوک صرف رمضان کے ساتھ ہی مخصوص ہے یا اس کی پابندی ہمیشہ لازم ہے۔ اس سوال کا جواب اس باب میں دیا گیا ہے کہ بحالت روزہ ان باتوں کا خاص طور پر اہتمام کیا جائے۔ چنانچہ اگلا باب بھی اسی تعلق میں قائم کیا گیا ہے۔