صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 81 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 81

صحیح البخاری جلد ۲ M ١٠ - كتاب الأذان صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِذَاءَ أَبِي بَكْرِ کو دیکھا تو پیچھے ہٹے۔ اس پر آپ نے انہیں اشارہ کیا إِلَى جَنْبِهِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِصَلَاةِ کہ اپنی جگہ ہی رہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابوبکر کے برابر ان کے پہلو میں بیٹھ گئے ۔ وَالنَّاسُ يُصَلُّوْنَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ۔ حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے اور لوگ حضرت ابوبکر کی نماز کے ساتھ نماز پڑھتے ۔ اطرافه: ١٩٨، ٦٦٤ ، 665 ، 679، 1٢،٦٨٧، 13، 16، ۲۵۸۸، ۳۰۹۹ ٣٣٨٤، ٤٤٤٢، ٤٤٤٥، ٥٧١٤، ٧٣٠٣ تشريح : مَنْ قَامَ إِلَى جَنْبِ الإِمَامِ لِعِلَّةٍ : روایت نمبر ۲ کی شرح میں بتایا جا چکا ہے میں کہ حضرت ابو بکر تا ڈبا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ حضرت ابو بکر آپ کے امام نہیں بنیں گے ۔ ( روایت نمبر ۶۸۴ ، ۶۸۵) اس لئے آپ بائیں طرف بیٹھ گئے ۔ علاوہ ازیں چونکہ بائیں جانب امام کے لئے مخصوص ہے اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی در حقیقت اپنی زندگی کے آخری لمحات تک امام تھے۔ آپ نے وہی جگہ اختیار فرمائی جو امام کے لئے مخصوص تھی۔ جس مسئلہ کا یہاں تعلق ہے وہ صرف اتنا ہے کہ مقتدی امام کے پہلو میں کسی مجبوری کی وجہ سے کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔ مثلا یہ کہ پیچھے جگہ نہ ہو اور ادھر اُدھر ہونے سے نمازیوں کی توجہ بنتی ہو۔ یا بطور محافظ امام کے پہلو میں کھڑا ہونا پڑے۔ روایت نمبر ۶۸۳ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں یا دائیں بیٹھنے کا ذکر نہیں ۔ صرف یہ ذکر ہے کہ حضرت ابو بکر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں لوگوں کو نماز پڑھائی۔ لیکن روایت نمبر ۶۶۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھنے کا ذکر ہے۔ بَاب ٤٨ : مَنْ دَخَلَ لِيَوْمَ النَّاسَ فَجَاءَ الْإِمَامُ الْأَوَّلُ فَتَأَخَّرَ الْأَوَّلُ أَوْ لَمْ يَتَأَخَّرْ جَازَتْ صَلَاتُهُ جو شخص لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کر دے اور امام اول آ جائے تو یہ امام ہے یا نہ ہٹے اس کی نماز جائز ہوگی فِيْهِ عَائِشَةُ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ اس بارہ میں حضرت عائشہ نے نبی ﷺ سے روایت کی ۔ ٦٨٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ ۶۸۴ : عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا،