صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 750 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 750

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۵۰ ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۳۷۰ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۳۷۰ علی بن عبداللہ مدینی نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنِي أَبِي ) کہا : ) يعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ صَالِحٍ حَدَّثَنِي نَافِعٌ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ (انہوں نے کہا:) میرے باپ نے مجھے بتایا۔ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ قَالَ اطَّلَعَ صالح ( بن کیسان ) سے مروی ہے کہ نافع نے مجھ سے بیان کیا۔ حضرت ( عبد الله ) بن عمر رضی اللہ عنہما النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَهْلِ نے ان سے بیان کیا، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الْقَلِيبِ فَقَالَ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ قلیب ( کنوئیں) والوں کو اوپر سے جھانک کر دیکھا حَقًّا فَقِيْلَ لَهُ تَدْعُو أَمْ لَهُ تَدْعُو أَمْوَاتًا فَقَالَ مَا أَنْتُمْ اور فرمایا: تمہارے رب نے (تم سے) جو وعدہ کیا تھا؟ بِأَسْمَعَ مِنْهُمْ وَلَكِنْ لَّا يُجِيبُوْنَ کیا تم نے اسے سچا پا لیا؟ آپ سے کہا گیا: کیا آپ اطرافه ٣٩٨٠، ٤٠٢٦۔ ان مردوں کو پکارتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: تم ان سے زیادہ نہیں سنتے ، البتہ وہ جواب نہیں دیتے۔ ۱۳۷۱ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۱۳۷۱: عبداللہ بن محمد نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ (کہا :) سفیان ( بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں أَبِيْهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ نے ہشام بن عروہ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت إِنَّهُمْ لَيَعْلَمُونَ الْآنَ أَنَّ مَا كُنْتُ کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو صرف أَقُوْلُ ، حَقٌّ وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى : إِنَّكَ یہ فرمایا تھا کہ اب وہ ضرور جانتے ہیں کہ جو کچھ میں لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى (النمل: ۸۱)۔ اطرافه: ۳۹۷۹، ۳۹۸۱ 上 ان سے کہتا تھا ؟ سچ ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ تو مردوں کو نہیں سناتا۔ ۱۳۷۲ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنِي أَبِي ۱۳۷۲ عبدان نے ہم سے بیان کیا، ( کہا: ) میرے عَنْ شُعْبَةَ سَمِعْتُ الأَشْعَثَ عَنْ أَبِيْهِ باپ (عثمان) نے مجھے بتایا۔ شعبہ سے مروی ہے کہ فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”تَدْعُو “ کی بجائے اَتَدْعُو “ ہے۔ ( فتح الباری جز ۳۰ حاشیہ صفحہ ۲۹۵) فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ”أَقُولُ" کی بجائے "أَقُولُ لَهُمْ " ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۲۹۵)