صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 732
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۳۲ ٢٣ - كتاب الجنائز فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا الْآيَةَ کیا تم نے ان میں کوئی کن کٹا بھی پایا ہے؟ اس کے (الروم: ۳۱) بعد حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت پڑھتے : اطرافه: ۱۳۵۹ ، ۱۳۸۵ ، 4775، 6599۔ یعنی اللہ کی فطرت جس پر کہ اس نے لوگوں کو پیدا کیا۔ ١٣٥٩ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ ۱۳۵۹ عبدان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عبد الله بن مبارک ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ نے کہا: ) یونس نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ کہ انہوں نے کہا: ) ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے مجھے رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ بتایا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : رسول اللہ مَوْلُوْدٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بچہ نہیں جو فطرت پر يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِرَانِهِ أَوْ يُمَحِّسَانِهِ كَمَا پیدا نہ ہوتا ہو۔ پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا تُنتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً جَمْعَاءَ هَلْ عیسائی یا مجوسی بناتے ہیں۔ جیسے چوپائے جانور صحیح تُحِسُّوْنَ فِيْهَا مِنْ جَدْعَاءَ ثُمَّ يَقُولُ سالم چوپائے جانور جنتے ہیں۔ کیا تم ان میں کن کٹا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي پاتے ہو؟ ( یہ حدیث بیان کر کے ) حضرت ابو ہریرا فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ یہ آیت پڑھتے یعنی اللہ کی فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ۔ اللہ کی پیدائش میں کوئی تبدیلی نہیں ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ (الروم: ۳۱) اطرافه ۱۳۵۸ ، ۱۳۸۵ ، 4775، 6599 چاہیے۔ یہی صحیح دین ہے۔ تشريح : إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّى عَلَيْهِ وَهَلْ يُعْرَضُ عَلَى الصَّبِيِّ الْإِسْلَامُ: سوال کہ بچہ اگر مسلمان ہو جائے اور بلوغت سے قبل مر جائے تو آیا اس کا اسلام درست ہوگا اور یہ کہ اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی یا نہیں؟ اور نابالغ بچے کو اسلام کی دعوت دی جائے گی یا نہیں؟ اگر اس کو اسلام میں لے آنا درست ہے تو پھر اس کا جنازہ پڑھنا بھی درست ہوگا۔ اس مسئلہ میں بھی فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کا یہ مذہب ہے کہ اگر مسلمان کا بچہ پیدا ہوتے وقت چلائے اور پھر فوت ہو جائے تو اس کا جنازہ پڑھا جائے گا اور امام ابو حنیفہ اور ابن ابی لیلیٰ کے نزدیک جب جنین میں حرکت پیدا ہو یعنی چار ماہ یا اس سے زیادہ کا ہو اور وہ مر جائے تو اس کی بھی نماز جنازہ