صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 731
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۳۱ ٢٣ - كتاب الجنائز ١٣٥٧ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۳۵۷ : علی بن عبداللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ قَالَ عُبَيْدُ اللهِ کیا، (کہا: ) سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا کیا۔ کہتے تھے: عبید اللہ ( بن ابی یزید ) نے کہا کہ يَقُوْلُ كُنْتُ أَنَا وَأُمِّي مِنَ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: الْمُسْتَضْعَفِينَ أَنَا مِنَ الْوِلْدَانِ وَأُمِّي میں اور میری ماں کمزوروں میں سے تھے۔ میں بچوں مِنَ النِّسَاءِ۔ اطرافه: ٤٥٨٧، ٤٥٨٨، ٤٥٩٧۔ میں اور میری ماں عورتوں میں ۔ ١٣٥٨ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۳۵۸ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) شُعَيْبٌ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ يُصَلَّى عَلَى شعیب نے ہمیں بتایا۔ ابن شہاب کہتے تھے: ہر بچے كُلِّ مَوْلُوْدٍ مُتَوَفَّى وَإِنْ كَانَ لِغَيَّةٍ مِنْ کے لئے جو مر جائے نماز جنازہ پڑھی جائے گو وہ حرام أَجْلِ أَنَّهُ وُلِدَ عَلَى فِطْرَةِ الْإِسْلَامِ کا ہی ہو۔ اس لئے کہ وہ اسلام کی فطرت پر پیدا ہوا يَدَّعِي أَبَوَاهُ الْإِسْلَامَ أَوْ أَبُوْهُ خَاصَّةً ہے۔ اس کے ماں باپ اسلام کا دعویٰ رکھتے ہوں یا وَإِنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ الْإِسْلَامِ إِذَا صرف اس کا باپ ہی (اسلام پر ) ہو۔ خواہ اس کی اسْتَهَلَّ صَارِحًا صُلِّيَ عَلَيْهِ وَلَا يُصَلَّى ماں اسلام پر نہ ہو۔ جب وہ پیدا ہوتے وقت عَلَى مَنْ لَّا يَسْتَهِلْ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ سِقْطٌ چلائے (اور پھر مر جائے ) تو اس کے لئے نماز جنازہ فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ پڑھی جائے اور جو نہیں چلاتا، اس کے لئے نماز نہ يُحَدِّثُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پڑھی جائے ۔ اس لئے کہ وہ نا تمام بچہ ہے جو گر گیا وَسَلَّمَ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَی ہے۔ کیونکہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی ایسا بچہ يُمَحِّسَانِهِ كَمَا تُنْتَجُ الْبَهِيمَةُ بَهِيمَةً نہیں جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔اس کے ماں باپ جَمْعَاءَ هَلْ تُحِسُّوْنَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ اس کو یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔ جیسے ثُمَّ يَقُوْلُ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ چوپائے جانور صیح سالم چوپائے جانور ہی جانتے ہیں۔