صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 716 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 716

صحيح البخاری جلد ۲ ۷۱۶ ٢٣ - كتاب الجنائز باب ۷۰ : بِنَاءُ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقَبْرِ قبر پر مسجد بنانا ١٣٤١ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ ۱۳۴۱: اسماعیل ( بن ابی اویس ) نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي مَالِكَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ کیا، کہا: ) مالک نے مجھے بتایا۔ انہوں نے ہشام عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمَّا ( بن عروہ) سے، ہشام نے اپنے باپ سے، انہوں اشْتَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت عائشہ رت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ وہ کہتی ذَكَرَتْ بَعْضُ نِسَائِهِ كَنِيسَةً رَأَيْنَهَا تھیں : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ کی بِأَرْضِ الْحَبَشَةِ يُقَالُ لَهَا مَارِيَةُ اَزواج میں سے بعض نے ایک گرجے کا ذکر کیا، جو وَكَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ وَأُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللهُ انہوں نے حبشہ کے ملک میں دیکھا تھا۔ جسے مار یہ کہتے تھے۔ اور حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا أَتَا أَرْضَ الْحَبَشَةِ فَذَكَرَنَا مِنْ حُسْنِهَا وَتَصَاوِيرَ فِيْهَا فَرَفَعَ رَأْسَهُ جبش کے ملک میں گئی تھیں اور انہوں نے اس کی خوبصورتی اور تصویروں کا حال بیان کیا۔ آپ نے اپنا فَقَالَ أُولَئِكَ إِذَا مَاتَ مِنْهُمُ الرَّجُلُ سر اٹھایا اور فرمایا: وہ لوگ جب ان میں سے کوئی نیک الصَّالِحُ بَنَوْا عَلَى قَبْرِهِ مَسْجِدًا ثُمَّ مُخص مر جائے تو اس کی قبر پر مسجد بنا دیتے ہیں۔ پھر صَوَّرُوْا فِيْهِ تِلْكَ الصُّوْرَةَ أُولَئِكَ اس میں تصویر میں بناتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک شِرَارُ الْخَلْقِ عِنْدَ اللَّهِ اطرافه: ٤٢٧، ٤٣٤ بدترین مخلوق ہیں۔ تشريح : بِنَاءُ الْمَسْجِدِ عَلَى الْقَبْرِ : آخر على الهلال اس کی شدید تنبيها شدید تنبیہہ اور آخری وصیت کے با وجود ہر اسلامی ملک میں اولیاء اللہ اور غیر اولیاء اللہ کی قبریں مسلمانوں کی سجدہ گاہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ دیکھ کر دل کڑھتا ہے اور آنکھیں پرنم ہوتی ہیں ۔ بے شک مسجد بنانے والوں کی نیت نیک ہوگی مگر ان کے بعد آنے والی نسلوں نے مشرکانہ رسوم سے وہاں کچھ کا کچھ بنا دیا ہے۔ اس سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ ایسی نیکی جس کے ساتھ بدی کے احتمالات ہوں اجتناب کئے جانے کے لائق ہے۔ اسی بناء پر علماء میں سے ایک فریق نے بغیر کسی استثناء یا شرط کے قبروں سے بالکل ملحق مسجد بنانا یا قبرستان میں نماز پڑھنا مطلق منع قرار دیا ہے۔ محولہ باب سے بھی یہی سمجھانا مقصود ہے۔ اس تعلق میں باب نمبر ۶۱ کی تشریح بھی ملاحظہ ہو۔