صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 717
صحيح البخاری جلد ۲ ٢٣ - كتاب الجنائز باب ۷۱ : مَنْ يَدْخُلُ قَبْرَ الْمَرْأَةِ عورت کی قبر میں کون اترے ١٣٤٢ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ۱۳۴: محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا، کہ ، (کہا:) فليح حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے کہا: ) بلال بن بْنُ عَلِي عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ علی نے ہمیں بتایا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مروی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی بیٹی کے وَسَلَّمَ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جنازہ میں موجود تھے۔ اور رسول اللہ ﷺ قبر کے کنارے وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ بیچے ہوئے تھے۔ میں نے آپ کی آنکھوں کو دیکھا کہ آنسو تَدْمَعَانِ فَقَالَ هَلْ فِيْكُمْ مِنْ أَحَدٍ لَمْ بہارہی ہیں ۔ آپ ۔ ہیں۔ آپ نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی ہے جو آج رات بیوی کے پاس نہ گیا ہو۔ حضرت ابوطلحہ نے کہا: میں يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ أَنَا قَالَ ہوں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قبر میں اترو۔ (حضرت انس ) فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا فَنَزَلَ فِي قَبْرِهَا کہتے تھے تب (حضرت ابوطلحہ ) اس کی قبر میں اترے۔ فَقَبَرَهَا قَالَ ابْنُ مُبَارَكِ قَالَ فُلَيْحٌ أَرَاهُ ( عبداللہ ) بن مبارک نے کہا: فلیح کہتے تھے: میرا خیال ہے يَعْنِي الذَّنْبَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِيَقْتَرِفُوْا کہ آپ کی مراد اس سے ارتکاب گناہ تھا اور ابوعبداللہ (الانعام : ١١٤) أَيْ لِيَكْتَسِبُوا (بخاری) نے کہا: لِيَقْتَرِفُوا کے معنی ہیں: کمائیں۔ اطرافه: ١٢٨٥ تشريح : مَنْ يَدْخُلُ قَبْرَ الْمَرْأَةِ: باب ۳۲ میں بھی روایت نمبر۳۴۲ اگر رکھی ہے جہاں تک ۳۲ چلی مسئلہ معنونہ کا تعلق ہے اس بارہ میں یہ شرط نہیں کہ عورت کو لحد میں رکھنے کے لئے وہ شخص قبر میں اترے جو اپنی بیوی سے اس رات ہم بستر نہ ہوا ہو۔ اسی خاص موقع پر آپ نے ارشاد فرمایا ہے۔ عنوان باب استفہامیہ ہے، مگر اس کا جواب محذوف ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ امام بخاری محولہ بالا روایت کو استنباط مسئلہ کے لئے کافی نہیں سمجھتے۔ قَالَ فُلَيْحٌ أَرَاهُ يَعْنِي الذَّنْبَ : لَمْ يُقَارِف کے معنے فلیح نے یہ کئے ہیں کہ جس نے گناہ نہ کیا ہو، مگر امام بخاری نے ان معنوں کی تردید کی ہے۔ قَرَف جب باب افتعال سے ہو تو اس کے معنے اکتساب کے ہوتے ہیں۔ گناہ کمانے کے مفہوم میں بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: وَلِيَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُقْتَرِفُونَ (الانعام: ۱۱۴) { اور تاکہ وہ (برے اعمال) کرتے رہیں جو وہ کرتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن قَارَفَ الشَّي ءَ کے معنی