صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 715
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۱۵ ٢٣ - كتاب الجنائز بَاب ٦٩ : الدَّفْنُ باللَّيْلِ وَدْفِنَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَيْلًا رات کو دفنانا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رات کو ہی دفنائے گئے ١٣٤٠ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ :۱۳۴۰ عثمان بن ابی شیبہ نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الشَّيْبَانِي عن (کہا : ) جریر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شیبانی سے، الشَّعْبِي عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ شیبانی نے شعمی سے، شعمی نے حضرت ابن عباس عَنْهُمَا قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ عَلَى رَجُلٍ بَعْدَ مَا دُفِنَ بِلَيْلَةٍ قَامَ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نماز جنازہ اس کے دفنائے هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَكَانَ سَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ جانے کے ایک رات بعد پڑھی۔آپ اور آپ کے صحابہ کھڑے ہوئے اور آپ نے پوچھا: یہ کس کی قبر ہے؟ مَنْ هَذَا فَقَالُوْا فُلَانٌ دُفِنَ الْبَارِحَةَ لوگوں نے کہا: فلاں کی قبر ہے۔کل رات دفن کیا گیا تھا۔فَصَلَّوْا عَلَيْهِ آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔اطرافه ٨٥٧، ۱۲٤٧، ۱۳۱۹، ۱۳۲۱، ١۳۲۲، ١٣٢٦، ١٣٣٦۔تشریح: الدَّفْنُ بِاللَّيْلِ وَدُفِنَ اَبُو بَكْرٍ لَّيْلا حضرت جابڑ کی روایت کی بناء پر جو ابن حبان نے نقل کی ہے بعض نے یہ فتوی دیا ہے کہ رات کو دفنانا منع ہے۔ابن حبان کی روایت کے یہ الفاظ ہیں: ان النبی وَزَجَرَ أَنْ يُقْبَرَ رَجُلٌ لَيْلًا إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِلى ذَلِكَ۔فتح الباري جز ۳ صفحہ ۲۶۵) یعنی آپ نے منع فرمایا کہ سوائے اضطراری حالت کے میت رات دفن کی جائے۔بعض فقہاء نے اس روایت کی بناء پر یہ فتویٰ دیا ہے کہ رات کو تدفین منع ہے۔یہ فتوے رڈ کرنے کی غرض سے باب ۶۹ قائم کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۶۵) امام مسلم نے بھی ایک شخص کے رات کو دفنائے جانے کے بارہ میں ایک روایت نقل کی ہے اس میں بھی یہ ذکر ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار فرمایا اور ہدایت کی کہ اِذَا كَفَّنَ اَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفْنَهُ۔(مسلم، كتاب الجنائز، باب في تحسین کفن المیت) جب تم میں سے کسی کے سپر داپنے بھائی کی تجہیز و تکفین ہو تو اچھی طرح تجہیز و تکفین کرے۔اس سے ظاہر ہے کہ ناراضگی کی وجہ ناقص تخلفین تھی۔روایت نمبر ۱۳۴۰ سے بھی یہی پایا جاتا ہے کہ صحابہ کرام نے اسے ایک معمولی شخص سمجھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی تدفین کے لئے بوقت شب تکلیف دینا مناسب خیال نہیں کیا۔یہ امر آپ کو گوارا نہ ہوا۔اس واقعہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ستودہ صفات کی شان نمایاں ہے کہ ایک معمولی سا خادم بھی آپ کی نظر میں زندگی اور موت دونوں حالت میں بڑی قدرو قیمت رکھتا تھا۔