صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 713
صحيح البخاری جلد ۲ ۷۱۳ ٢٣ - كتاب الجنائز قَالَ أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى باپ سے، ان کے باپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ فَلَمَّا جَاءَهُ صَكَّهُ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: حضرت موسیٰ علیہ السلام کے فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدِ پاس ملک الموت بھیجا گیا۔ جب وہ ان کے پاس آیا تو انہوں لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ فَرَدَّ اللهُ عَلَيْهِ عَيْنَهُ نے اس کو ایک تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑ ڈالی ہو اس پر وَقَالَ ارْجِعْ فَقُلْ لَهُ يَضَعُ يَدَهُ عَلَى وہ اپنے رب کی طرف لوٹا اور کہا: تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَهُ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ بِهِ يَدُهُ آنکھ پھر ویسی کر دی اور فرمایا: پھر جاؤ اور موسیٰ سے کہو کہ وہ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ قَالَ أَيْ رَبِّ ثُمَّ مَاذَا ایک بیل کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ رکھے تو اسے اتنی ہی عمر دی جائے قَالَ ثُمَّ الْمَوْتُ قَالَ فَالْآنَ فَسَأَلَ اللَّهَ گی جتنے کو اس کا ہاتھ ڈھانپ لے۔ ہر ایک بال کے بدلے أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً ایک سال حضرت موسیٰ “ نے کہا: اے میرے رب ! اس بِحَجَرٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ کے بعد کیا ہوگا ؟ فرمایا: پھر موت حضرت موسی نے کہا: تو عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَوْ كُنْتُ ثَمَّ لَأَرَيْتُكُمْ پھر ابھی سہی۔ پھر حضرت موئٹی نے اللہ تعالٰی سے یہ سوال کیا قَبْرَهُ إِلَى جَانِبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ کہ اس کو بیت المقدس سے ایک پتھر کی مار (فاصلہ ) جتنا الْأَحْمَرِ نزدیک کردے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میں وہاں ہوتا تو میں تم کو موسیٰ کی قبر لال ٹیلے کے پاس راستہ کے قریب دکھا دیتا۔ مسئلہ عنوان تشريح : مَنْ أَحَبَّ الدَّفْنَ فِي الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ أَوْ نَحْوِهَا : روایت کا خلق منال زیر تو سے واضح ہے۔ فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ آیا میت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جا کر دفن کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ بعض اسے مگر وہ سمجھتے ہیں اور بعض مستحب ۔ لیکن اس مسئلہ میں فتوے کا دارو مدار حالات پر ہے۔ مستحب بھی ہو سکتا ہے اگر منتقل کرنے سے فائدہ متصور ہو اور مکر وہ بھی اگر کوئی فائدہ نہ ہو۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۲۶۴) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خواہش کرنا ایک مقدس جذبہ ہے۔ آپ اپنے آپ کو اس ارض مقدسہ کے پہلو میں دیکھنا چاہتے تھے۔ جو آپ کی پیشگوئی اور آپ کی جدو جہد کا قبلہ مقصود تھا اور بنی اسرائیل کے لئے آئندہ ترقیوں کی موعودہ زمین۔ چنانچہ کتاب استثناء باب ۴:۳۴ میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پہلے اریحیا فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں اس جگہ فَقَا عَيْنَہ کے الفاظ بھی ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ثالث ، حاشیہ صفحہ ۲۶۳)