صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 714
۷۱۴ ٢٣ - كتاب الجنائز صحيح البخاری جلد ۲ کے قریب ایک پہاڑی کی چوٹی سے ارض مقدسہ دکھلا کر انہیں تسلی دی کہ وعدے کے مطابق وہ ضرور ان کی نسل کو دی جائے گی ، مگر وہ خود وہاں داخل نہیں ہوں گے۔محولہ بالا روایت کا تعلق جو نقل یا درایت سے ہے۔وہ واضح ہے کیونکہ یہ ان قصص میں سے ہے جو عام طور پر زبان زد خلائق ہوتے ہیں اور جن سے کوئی نہ کوئی دانائی کی بات سکھانا مقصود ہوتا ہے۔ایسے قصص کے متعلق یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ وہ اصل واقعات کے ساتھ اپنی تفصیلات میں کہاں تک مطابق ہیں۔آج تک عظمند سے عقلمند انسان بھی بات واضح اور ذہن نشین کرانے کے لئے مشہور کہاوتوں سے فائدہ اٹھاتے چلے آئے ہیں اور یہ ضرورت نہیں سمجھی جاتی کہ ان کے صدق و بطلان کے بارہ میں تحقیق بھی کی جائے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایسے قصوں میں ں بلکہ پوشیدہ حکمت کہاں تک درست ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام سے متعلق حضرت ابو ہریرۃا نے جو قصہ بیان کیا ہے۔اس میں دو باتیں ہیں۔ایک ارض مقدسہ میں پہنچے یا کم از کم وفن ہونے کی خواہش اور دوسری یہ کہ موت سے کوئی چارہ نہیں، خواہ عمر کتنی بھی لمبی کیوں نہ ہو جائے۔یہ دونوں باتیں حق ہیں۔رہا ملک الموت کا آنا، حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تھپڑ مارنا اور ملک الموت کا اللہ تعالیٰ سے شکایت کرنا۔اس کی ذمہ داری ان یہودی راویوں پر ہے جنہوں نے اس قصے کو شہرت دی۔البتہ اس ضمن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جو کہ امام بخاری نے شرعی مسئلہ استنباط کرنے میں اسرائیلی روایت سے استدلال کیوں کیا ہے جبکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً مروی نہیں اور جبکہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کے قصے سن کر نہ ان کی تصدیق کی جاوے اور نہ تکذیب۔اس کا جواب یہ ہے کہ امام موصوف نے عنوان باب کو من سے قائم کر کے اس کا جواب نظر انداز کر دیا ہے۔اس لطیف تصرف سے ان کا مقصد ان فقہاء کی طرف اشارہ کرنا ہے جنہوں نے کسی مقدس زمین میں میت دفن کرنے کو ترجیح دی ہے۔جیسا کہ امام ابن حجر نے امام شافعی سے متعلق لکھا ہے: "نص الشَّافِعِيُّ عَلَى اسْتِحْبَابِ نَقْلِ الْمَيِّتِ إِلَى الْأَرْضِ الْفَاضِلَةِ كَمَكَّةَ وَغَيْرِهَا» (فح الباری جز ۳۰ صفر ۲۶۴) ایسے فقہاء کے فتووں کو مد نظر رکھتے ہوئے باب کا عنوان بڑی احتیاط سے قائم کیا ہے اور اس ضمن میں صرف ایک ہی روایت پیش کی ہے جو حضرت ابو ہریرہ کی ہے اور اسے حدیث الانبیاء میں نقل کر کے اس کو انبیاء کے قصوں میں شمار کیا ہے۔کسی مسئلہ کی بنیاد اس قصہ پر نہیں رکھی گئی اور ظاہر ہے کہ اسے مستند احادیث کا درجہ حاصل نہیں۔یہ امام موصوف کی تحقیق کا خلاصہ ہے۔اس سے انہوں نے اپنا فرض بطور ایک محقق ادا کر دیا ہے۔یعنی یہ کہ مسئلہ معنونہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا کوئی روایت ثابت نہیں۔رَميَة بِحَجَرٍ : پھر پھینکنے کے فاصلے پر۔اس بارے میں بعض شارحین نے لکھا ہے کہ ارض مقدسہ کی حدود کے قریب سلطان صلاح الدین ایوبی نے علماء کے ذریعہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کی نشان دہی کی ہے۔میں نے یہ قبر دیکھی ہے۔یہودی اور مسلمان ہر سال وہاں زیارت کے لئے ان دنوں میں جب کہ میں بیت المقدس میں تھا مقررہ دنوں میں جاتے تھے اور یہ دن وہی ہوتے جن دنوں میں عیسائی اپنے مشہور تہوار ایسٹر کے موقع پر دور دراز ملکوں سے جمع ہوتے جس سے ظاہر ہے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کی مذکورہ بالا تحقیق ایک سیاسی غرض سے تھی تا عیسائیوں کے نا گہاں حملہ کا سد باب ہو سکے۔ایسے موقع پر میں نے دیکھا ہے کہ مسلمان جنگی فنون کا بھی مظاہرہ کیا کرتے تھے۔