صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 55
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵ ١٠ - كتاب الأذان لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَمُرَ الْمُؤَذِّنَ : باب ۲۹ یعنی وُجُوبُ صَلوةِ الْجَمَاعَةِ کا مضمون یہاں ختم ہے۔ باب ۲۹ میں بھی یہی حدیث ہے اور یہ باب بھی اس حدیث پر ختم ہوا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک نماز فریضہ کی فضیلت کا اصل سبب یہی ہے کہ جماعت کے ساتھ اس کی ادائیگی لازمی ہے۔ اسی لئے انہوں نے ابواب کے عنوان قائم کرنے میں لطیف تصرفات سے کام لیا ہے۔ مثلاً باب ۳۱: فَضْلُ صَلوةِ الْفَجْرِ فِي جَمَاعَةِ اور باب ۳۴: فَضْلُ الْعِشَاءِ فِي الْجَمَاعَةِ ان دو ابواب کے درمیان باب ۳۲: فَضْلُ التَّهْجِيرِ إِلَى الظُّهْرِ رکھ کر اس ضمن میں یہ حدیث بیان کی ہے: لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِ الْأَوَّلِ ( روایت نمبر ۶۵۳) حَيَّ عَلَى الصَّلوة کی نداء سے بھی جو ایک حکم ہے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ نماز فریضہ وہ نماز ہے جو باجماعت پڑھی جانی چاہیے ۔ حکم وَأَقِيمُو الصلوۃ اور حکم وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ (البقره: ۴۴) بھی اسی مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔ باب ٣٥ : اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ دو یا دو سے زیادہ جماعت ہوتی ہے ٦٥٨ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۶۵۸ مدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یزید بن يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ زُرَیع نے ہم سے بیان کیا، کہا: خالد نے ہمیں بتایا۔ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ عَنِ انہوں نے ابوقلابہ سے، ابوقلابہ نے حضرت مالک النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا بن حویرث سے، حضرت مالک بن حویرث نے نبی حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَأَذْنَا وَأَقِيمَا ثُمَّ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ آپؐ نے فرمایا: لِيَؤْمَكُمَا أَكْبَرُكُمَا ۔ جب نماز کا وقت آئے؛ تم دونوں اذان دو اور تکبیر اقامت کہو۔ پھر تم دونوں میں سے جو بڑا ہو ؛ امام ہو۔ اطرافه: ٦٢٨ ، ٦٣٠، ٦٣١، 658، ٦٨٥، ۸۱۹، ٢٨٤۸ ، ٦٠٠٨، ٧٢٤٦۔ تشريح : اثْنَانِ فَمَا فَوْقَهَمَا جَمَاعَةٌ: نماز باجماعت پڑھنے کی فرضیت ثابت کرنے کے بعد با جماعت کی تعریف کی ہے۔ اِثْنَانِ فَمَا فَوْقَهُمَا جَمَاعَةٌ ۔ اگر دو شخص بھی امام اور مقتدی بن کر اکٹھے نماز پڑھیں تو ان کی نماز با جماعت کہلائے گی اور سمجھا جائے گا کہ انہوں نے فریضہ نماز ادا کر دیا ؛ خواہ مسجد میں یا مسجد کے باہر کسی اور جگہ جبکہ معذوری لاحق ہو۔ جیسا کہ حضرت عتبان بن مالک کو جو نا بینا تھے، اپنے گھر میں نماز پڑھانے کی اجازت بوجہ معذوری دی گئی۔ وہ نہ صرف اندھے تھے بلکہ ان کے لئے یہ بھی مشکل تھی کہ ان کے راستے میں سیلابی نالہ تھا جو بارشوں میں ناقابل عبور ہو جاتا۔ ایسی معذوری کی حالت میں بھی انہیں گھر پر تنہا نماز پڑھنے کی اجازت نہ دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ