صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 686
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۸۶ ٢٣ - كتاب الجنائز النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا نے اپنے باپ ( عبداللہ بن عمرو ) سے، انہوں نے عامر بن رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُوْمُوْا حَتَّى تُخَلَّفَكُمْ ربیعہ سے، عامر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ قَالَ سُفْيَانُ قَالَ الزُّهْرِيُّ أَخْبَرَنِي آپ نے فرمایا: جب تم جنازہ دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ۔ یہاں سَالِمٌ عَنْ أَبِيْهِ قَالَ أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ تک کہ جنازہ تم سے آگے نکل جائے۔ سفیان نے یوں نقل رَبِيعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیا۔ زہری نے کہا: سالم نے مجھے بتایا کہ ان کے باپ سے زَادَ الْحُمَيْدِيُّ حَتَّى تُخَلَّفَكُمْ أَوْ مروی ہے۔ انہوں نے کہا: حضرت عامر بن ربیعہ نے نبی صلی تُوْضَعَ۔ اطرافه: ۱۳۰۸ ------- اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ حمیدی نے اپنی روایت میں یہ زیادہ کیا: یہاں تک کہ وہ تم سے آگے نکل جائے یا نیچے رکھ دیا جائے ۔ زہ دیکھ کر کھڑا ہونے کے لئے جوار شاد فرمایا یہ میت کی تعظیم کے لئے ہے اور اہل میت کے ساتھ مامیت کے ساتھ اظہار ہمدردی ہے۔ اکثر صحابہ و تابعین نے اس فعل کو مستحب قرار دیا ہے نہ کہ واجب ۔ جیسا کہ بعض کی رائے ہے۔ اس کی تائید میں نہ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مذکورہ بالا ارشاد پیش کیا ہے جو بصیغہ امر ہے۔ بلکہ حضرت جابر بن عبداللہ کے واقعہ سے بھی استدلال شامل ہے۔ ( باب ۴۹ روایت نمبر ۱۳۱۱) امام بخاری نے باب ۴۶ تا ۴۹ مختلف عنوانوں کے ماتحت اور متعد د سندوں کی بناء پر یکے بعد دیگرے اس لئے قائم کئے ہیں کہ اس مسئلہ کی اہمیت پر مزید روشنی پڑے۔ کھڑا ہونے والا اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک کہ جنازہ نہ گزر جائے یا اس کے قریب رکھ نہ دیا جائے ۔ ایسا ہی جنازہ کے ساتھ جانے والا بھی نہ بیٹھے تا وقتیکہ وہ زمین پر نہ رکھ دیا جائے۔ اس قدر تاکید وجوب پر دلالت کرتی ہے۔ ( باب ۴۸۴۷) علاوہ ازیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل درآمد بھی اس کی تائید کرتا ہے۔ ایک یہودی کے جنازہ کے لئے آپ کھڑے ہو گئے۔ صحابہ نے بھی آپ کی اتباع کی اور ایک مشرک کے جنازہ کی تعظیم میں بھی وہ کھڑے ہوئے۔ ( باب ۴۹) اسلام کا تمدن وسیع بنیاد پر قائم ہے اور معاشرہ سے متعلق اس کی تعلیم ادب و اخلاق فاضلہ پر مبنی ہے جو مجموعہ بشری کی سلامتی و استواری کے لئے از بس ضروری ہیں ۔ یہ ادب انسان کے جسمانی و نفسانی حرکات کے ربط و ضبط سے تعلق رکھتا ہے اور پہلا قدم ہے، انسان کی روحانی تربیت کا اور اسلامی نماز میں اس ادب کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ ایک یہودی کے جنازہ کا احترام اسی روحانی تربیت سے تعلق رکھتا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: اسلامی اصول کی فلاسفی زیر عنوان اصلاح کے تین طریق صفحہ ۱۳ تا ۲۵۔ روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۳۲۷ تا ۳۳۹