صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 685
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۸۵ ٢٣ - كتاب الجنائز اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَيْعَةِ أَنْ لَّا تَنُوحَ سے روایت کی کہ وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نے ہم سے فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرَ خَمْسَ نِسْوَةٍ بیعت کے وقت یہ عہد لیا تھا کہ ہم بین نہیں کریں گی۔أُمّ سُلَيْمٍ وَأَمَ الْعَلَاءِ وَابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ ہم میں سے سوائے پانچ عورتوں کے کسی عورت نے امْرَأَة مُعَادَ وَامْرَأَتَيْن أَوْ ابْنَةِ أَبِي سَبْرَةَ بھی اس کو نہ نبھایا۔حضرت ام سلیم ، حضرت ام العلاء اور حضرت ابو سبرہ کی بیٹی جو حضرت معاذ بن جبل کی اہلیہ تھیں اور دو اور عورتیں یا یوں کہا: ابوسبرہ کی بیٹی اور وَامْرَأَةِ مُعَادٍ وَامْرَأَةٍ أُخْرَى۔اطرافه: ٤۸۹۲، ۷۲۱٥ حضرت معاذ کی اہلیہ تھیں اور ایک دوسری عورت۔تشریح : فَاحْتُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرابَ: باب میں بین کرنے کی کراہیت کا ذکر ہے۔یہاں اس یریا سے منع کرنے اور روکنے کا۔فَاحْتُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ محاورہ ہے۔اس کے یہ معنی نہیں کہ ان کے منہ پر مٹی ڈالو۔بلکہ تختی سے منع کرنا مراد ہے۔اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرنے کے لئے عنوان باب میں اَلزَّجُرُ عَنْ ذَالِكَ کے الفاظ بڑھائے گئے ہیں۔عمرہ کی روایت نمبر ۱۲۹۹ میں بھی گزر چکی ہے۔فَمَا وَفَتْ مِنَّا امْرَأَةٌ غَيْرَ خَمْسِ نِسُوَةٍ : روایت نمبر ۱۳۰۶ میں جن پانچ عورتوں کا ذکر ہے ان میں سے ایک حدیث کی راویہ حضرت ام عطیہ بھی ہیں۔طبرانی نے ان کی روایت نقل کرتے ہوئے ان کے یہ الفاظ بھی نقل کے ہیں: فَمَا وَقَتْ غَيْرِى وَغَيْرُ اُم سُلَيْمٍ (المعجم الكبير للطبراني، ما اسندت ام عطية، روایت نمبر ۱۳۵۔جز ء ۲۵ صفحه ۵۹) کہ میرے اور ام سلیم کے سوا کسی نے عہد نہ نبھایا۔اس سے یہ مراد نہیں کہ وہ پانچ عورتیں ہی اپنے عہد کی پابند رہیں، باقی نہ تھیں۔بلکہ یہ بتایا ہے کہ اس وقت بیعت میں جو عورتیں شامل تھیں، ان میں سے ان پانچ نے اس عہد بیعت کو خوب نبھایا اور اس کاحق ادا کر دیا۔ایک فریق کی خوبی کے بیان سے دوسرے فریق کی خامی متلزم نہیں ہوتی۔یہاں بھی عہد نبھانے والی پانچ خواتین کا ذکر کرنا مقصود ہے ، نہ کہ ان کا جو اس عہد کو کماحقہ نہ نبھا سکیں۔بَابِ ٤٦ : الْقِيَامُ لِلْجَنَازَةِ جنازہ کے لئے کھڑا ہونا ۱۳۰۷ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۳۰۷ علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ عَنْ ) کہا: ( سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنِ نے کہا :) زہری نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سالم سے، سالم