صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 687
صحيح البخاری جلد ۲ رَضِيَ YAZ باب ٤٧ : مَتَى يَقْعُدُ إِذَا قَامَ لِلْجَنَازَةِ اگر جنازے کے لیے کھڑا ہو تو کب بیٹھے ؟ ٢٣ - كتاب الجنائز ۱۳۰۸: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۱۳۰۸ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا، (کہا :) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ليث بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے، اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ عَامِرِ بْن رَبَيْعَةَ نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، حضرت ابن عمرؓ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے، حضرت عامر وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ جَنَازَةً نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: فَإِنْ لَّمْ يَكُنْ مَّاشِيًا مَعَهَا فَلْيَقُمْ حَتَّى جب تم میں سے کوئی جناز و دیکھے، اگر اس کے ساتھ چلے يُخلَّفَهَا أَوْ تُخَلَّفَهُ أَوْ تُوْضَعَ مِنْ قَبْل نہیں تو کھڑا ہو جائے یہاں تک کہ وہ اس کے پیچھے رہ جائے۔یا ( فرمایا :) جنازہ اس سے آگے نکل جائے یا آگے جانے سے پہلے ہی نیچے رکھ دیا جائے۔أَنْ تُخَلَّفَهُ۔اطرافه: ۱۳۰۷۔١٣٠٩ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ :١٣٠٩ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِلْبٍ عَنْ سَعِيدٍ ابوذئب کے بیٹے نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید مقبری الْمَقْبُرِي عَنْ أَبِيْهِ قَالَ كُنَّا فِي جَنَازَةٍ سے سعید نے اپنے باپ ( کیسان ) سے، انہوں نے کہا: فَأَخَذَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِيَدِ ہم ایک جنازے میں تھے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مَرْوَانَ فَجَلَسَا قَبْلَ أَنْ تُوْضَعَ فَجَاءَ نے مروان کا ہاتھ پکڑا اور دونوں بیٹھ گئے ، پیشتر اس سے سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَخَذَ بِيَدِ که جنازه نیچے رکھا جاتا۔حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ مَرْوَانَ فَقَالَ قُمْ فَوَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ هَذَا آئے اور مروان کا ہاتھ پکڑ کر کہا: کھڑے ہو جاؤ۔اللہ کی النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانَا قسم! ان کو یقینا علم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ صَدَقَ۔اس سے منع کیا تھا۔حضرت ابو ہریرہ نے کہا: سچ کہا ہے۔اطرافه ۱۳۱۰