صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 646
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۶ ٢٣ - كتاب الجنائز ثَوْبَيْنِ وَلَا تُحَرِّطُوْهُ وَلَا تُحَمِّرُوا رَأْسَهُ پتوں سے نہلا ؤ اور اسے دو کپڑوں میں کفنا دو اور اس فَإِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَتِيًّا ۔ کو خوشبو نہ لگاؤ اور نہ اس کا سر ڈھانپو کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کو روز قیامت لبیک کہتے ہوئے اٹھائے گا۔ اطرافه ١٢٦٥، ١٢٦٧، ۱٢٦٨ ، ۱۸۳۹ ، ۱۸۴۹، 1850، 1851۔ تشریح : الْخُنُوطُ لِلْمَيِّتِ : احرام کی حال میں خوشبو گانا بھی نہ ہے اور حرم سے نگے ہوتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے احرام کی حالت تبدیل کرنے سے منع فرمایا کیونکہ یہ اس کی موت کا امتیازی صلى الله نشان تھا۔ امام بخاری نے اسی سے مسئلہ زیر عنوان اخذ کیا ہے یعنی میت کو نہلانے کے بعد خوشبو لگائی جائے لیکن آپ نے محرم میت کو خوشبو لگانے سے منع فرمایا ۔ مالکی فقہاء نے اسی دلیل سے استدلال کیا ہے کہ محرم کے خوشبو لگائی جاسکتی ہے۔ امام مالک کے نزدیک احرام کی حالت موت کے ساتھ منقطع ہو جاتی ہے۔ اس لئے محرم میت کو اسی طرح خوشبولگائی جائے جس طرح کہ غیر محرم میت کو اور بعض احناف کی رائے ہے کہ نبی ﷺ کا قول کہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتے ہوئے اٹھایا جائے گا ، اسی شخص کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس لئے ان کا بھی یہی فتوٹی ہے جو امام مالک کا، جس کی بناء پر نبی ﷺ کا عام حکم ہے یعنی یہ کہ میت کو نہلا کر خوشبو لگاؤ مگر اس کے برخلاف امام شافعی کا یہ استدلال ہے کہ نبی ﷺ نے شہدائے احد سے متعلق یہ حکم دیا تھا زَمِّلُوهُمْ بِدِمَاءِ هِم۔ (نسائی، کتاب الجنائز، باب مواراة الشهيد في دمه) نیز فرمایا: وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَنْ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِهِ یعنی ان کو ان کے خونوں میں پیٹو۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ میں زخمی ہے۔ شہیدوں کے لئے آپ کا حکم عام ہے کہ وہ بغیر نسل انہی کپڑوں ؟ پڑوں میں دفنائے جائیں جن میں وہ شہید ہوئے ۔ ا وہ شہید ہوئے ہیں۔ اس لئے قیاس چاہتا ہے کہ ہر محرم پر یہی حکم عائد کیا جائے جو آ عائد کیا جائے جو آنحضرت ﷺ نے واقعہ مذکورہ میں دیا۔ (فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۷۵) غرض اس قسم کا فقہی اختلاف مد نظر رکھ کر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ روایت زیر باب ۲۰ کے لیے دیکھئے: روایات نمبر ۱۲۶۵، ۱۳۶۷، ۱۲۶۸۔ صلى الله بَاب ۲۱ : كَيْفَ يُكَفِّنُ الْمُحْرِمُ محرم کس طرح کفنایا جائے؟ ١٢٦٧ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ أَخْبَرَنَا ۱۲۶۷: ابو نعمان نے ہم سے بیار بیان کیا کہ ابو عوانہ نے أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشَرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ ہمیں خبر دی۔ انہوں نے ابو بشر سے،ابو بشر نے سعید بن جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جبیر سے سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے أَنَّ رَجُلًا وَقَصَهُ بَعِيْرُهُ وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ روایت کی کہ ایک شخص کی گردن اس کے اونٹ نے توڑ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِم دی اور ہم نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور وہ احرام میں تھا تو