صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 645
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۵ ٢٣ - كتاب الجنائز النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اغْسِلُوْهُ پڑا اور اس نے اس کی گردن توڑ دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوْهُ فِي ثَوْبَيْنِ وَلَا نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے پتوں سے نہلا ؤ اور تُحَرِّطُوْهُ وَلَا تُحَمِّرُوْا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ دو کپڑوں میں کفناؤ اور اسے حنوط نہ لگاؤ اور نہ اس کے يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا ۔ منہ کو ڈھانپو کیونکہ وہ قیامت کے دن اَللَّهُمَّ لَبَيِّيْكَ کہتا ہوا اُٹھے گا۔ اطرافه: ١٢٦٦، ١٢٦٧، ۱٢٦٨ ، ۱۸۳۹ ، ۱۸۷۹، 1850، 1851۔ تشریح : الكَفَنُ فِي تَوْبَينِ : اس باب کی روایت سے امام ابویہ نے یہ سال اخذ کیا ہے کہ مردودہ کپڑوں میں بھی کفنایا جا سکتا ہے اور یہ کہ تین کپڑوں میں کفنا نا مسنون ہے، واجب نہیں ۔ حج کے ایام میں جو شخص اونٹنی سے گرنے پر فوت ہوا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر اس کو اس کے احرام کی دونوں چادروں میں کفنایا گیا۔ آپ کے ارشاد فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَتِيًّا سے ظاہر ہے کہ جس حالت میں کسی کا خاتمہ ہوتا ہے اسی پر اس کی اخروی بعثت ہوتی ہے۔ حنوط اس خوشبو کو کہتے ہیں جو میت کو بگڑنے سے محفوظ رکھنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ کافور، صندل، مشک ، عود ہندی وغیرہ دیگر مصالحہ جات سے تیار ہوتی ہے۔ بَاب ۲۰ : الْحَنُوْطُ لِلْمَيِّتِ میت کو خوشبو لگانا ١٢٦٦ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ۱۲۶۶: قنیہ نے ہم سے بیان کیا، ( کہا:) حماد نے عَنْ أَيُّوبَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ ہمیں بتایا۔ انہوں نے ایوب سے، ایوب نے سعید عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ بَيْنَمَا بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رَجُلٌ وَاقِفْ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک شخص رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ إِذْ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں کھڑا تھا کہ فَأَقْصَعَتْهُ أَوْ قَالَ فَأَقْعَصَتْهُ فَقَالَ اتنے میں وہ اپنی سواری سے گر پڑا اور اس نے اس کو رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ پاؤں سے کچل ڈالا۔ یا کہا: وہیں مار ڈالا ۔ رسول اللہ اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفَنُوْهُ فِي صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو پانی اور بیری کے