صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 640
صحيح البخاری جلد ۲ ۶۴۰ ٢٣ - كتاب الجنائز ( خوشبودار مصالحہ ) استعمال کیا جائے ۔ باب ہذا میں اس اختلاف کی طرف بھی اشارہ ہے۔ جمہور کا یہی مذہب ہے کہ پانی میں کافور ملا لیا جائے ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۱۶۹) بَاب ١٤ : نَقْضُ شَعَرِ الْمَرْأَةِ عورت کے بال کھولنا وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ لَا بَأْسَ أَنْ يُنْقَضَ اور ابن سیرین نے کہا: کوئی حرج نہیں اگر عورت * شَعَرُ الْمَيِّتِ کے بال کھول دیئے جائیں۔ ١٢٦٠ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ حَدَّثَنَا عَبْدُ ۱۲۶۰: احمد (بن صالح) نے ہم سے بیان کیا، اللهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ (کہا:) عبداللہ بن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ أَيُّوْبُ وَسَمِعْتُ حَفْصَةَ بِنْتَ سِيْرِينَ (انہوں نے کہا: ) ابن جریج نے ہمیں بتایا کہ ایوب کہتے تھے: میں نے حفصہ بنت سیرین سے سنا۔ کہتی قَالَتْ حَدَّثَتْنَا أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تھیں : حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے ہم سے أَنَّهُنَّ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ نَقَضْنَهُ ثُمَّ بیٹی کے سر کے بالوں کی تعین نہیں کر دیں۔ انہیں پہلے غَسَلْنَهُ ثُمَّ جَعَلْنَهُ ثَلَاثَةَ قُرُوْنٍ۔ کھولا پھر انہیں دھویا۔ پھر ان کی تین لٹیں کیں۔ اطرافه ١٦٧، ١٢٥٣، ١٢٥٤، ١٢٥٥، ١٢٥٦، ١٢٥٧، ١٢٥٨، ١٢٥٩، ١٢٦١، ١٢٦٢، ١٢٦٣ تشریح : نَقُضُ شَعَرِ الْمَرْأَةِ: روایت نبر ۱۳۶۰ کے الفاظ جَعَلْنَ رَأْسَ بِنتِ النبي ل لة قرون سے مراد سر کے بال ہیں جیسا کہ عنوان باب میں تشریح کی گئی ہے۔ ابن سیرین کے فتوئی کا حوالہ ال ا حوالہ ان لوگوں کو مد نظر رکھ کر دیا گیا ہے جو بال کھولنا یا کنگھی کرنا اس لئے مکر وہ جانتے ہیں کہ کہیں بال ٹوٹ نہ جائیں۔ ( فتح الباری جزء ۲ صفحہ ۱۷۰) یہ وہم ہے۔ باب ١٥ : : كَيْفَ الْإِشْعَارُ لِلْمَيِّتِ میت ( کے بدن ) پر کپڑا کیسے لپیٹا جائے؟ وَقَالَ الْحَسَنُ الْخِرْقَةُ الْخَامِسَةُ يَشُدُّ اور حسن (بصری) نے کہا: (عورت کے لئے) پانچواں کپڑا بھی بِهَا الْفَخِذَيْنِ وَالْوَرِ كَيْنِ تَحْتَ الدِّرْعِ چاہیے۔ جس سے قمیص کے نیچے رانیں اور سرین باندھے جائیں۔ کرد عمدۃ القاری میں لفظ الْمَيِّتِ“ کی بجائے ”الْمَرْأَةِ“ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۸ صفحہ ۴۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔