صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 592
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۹۲ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة بَاب ۱۲ : مَا يَجُوزُ مِنَ الْبُصَاقِ وَالنَّفْخِ فِي الصَّلاةِ نماز میں تھوکنا اور پھونکنا کہاں تک جائز ہے؟ وَيُذْكَرُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو نَفَخَ اور حضرت عبداللہ بن عمرہؓ سے مروی ہے اور نبی النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صلى الله علیہ وسلم نے کسوف کی نماز میں بحالت سجدہ سُجُودِهِ فِي كُسُوْفٍ ۔ اف اُف کیا۔ ۱۲۱۳ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۱۲۱۳ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ (کہا:) حماد ( بن زید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ ایوب سے ، ایوب نے نافع سے، نافع نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى نُخَامَةً فِي ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى أَهْلِ نے مسجد کے قبلہ میں رینٹھ (ریزش بینی ) کو دیکھا تو الْمَسْجِدِ وَقَالَ إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ أَحَدِكُمْ آپ مسجد والوں سے ناراض ہوئے اور فرمایا: اللہ تم فَإِذَا كَانَ فِي صَلَاتِهِ فَلَا يَبْزُ قَنَّ أَوْ قَالَ میں سے ایک کے سامنے ہوتا ہے جب وہ نماز میں لَا يَتَنَخَّمَنَّ ثُمَّ نَزَلَ فَحَبَّهَا بِيَدِهِ۔ وَقَالَ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ نہ تھو کے اور نہ ہی بلغم نکالے۔ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِذَا بَزَقَ پھر آپ نیچے آئے اور اپنے ہاتھ سے اسے کھرچ ڈالا۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جب تم میں سے أَحَدُكُمْ فَلْيَبْزُقَ عَلَى يَسَارِهِ۔ کوئی تھو کے تو چاہیے کہ وہ اپنی بائیں طرف تھو کے۔ اطرافه: ٤٠٦ ، ٧٥٣، ٦١١١۔ ١٢١٤: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۲۱۴ محمد بن بشار ) نے ہم سے بیان کیا، غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ فَتَادَةَ ( کہا:) غندر نے ہم سے بیان کیا۔ کہ شعبہ نے ہمیں عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ بتایا، کہا: میں نے قتادہ سے سنا۔ انہوں نے حضرت انس صلى الله علوم سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا كَانَ فِي رضی اللہ عنہ سے، حضرت انس نے نبی الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ يُنَاجِي رَبَّهُ فَلَا يَبْزُ قَنَّ بَيْنَ روایت کی ۔ آپ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جب نماز