صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 593
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۹۳ ۲۱ - کتاب العمل في الصلاة يَدَيْهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلَكِنْ عَنْ شِمَالِهِ میں ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے مناجات کر رہا ہوتا ہے۔ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى۔ اس لئے نہ اپنے سامنے تھو کے اور نہ اپنی داہنی طرف ، بلکہ اپنی بائیں طرف یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے۔ اطرافه ٢٤١، ٤٠٥، ٤١٢، ٤١٣، ٤١٧، ٥٣١، ٥٣٢، ٨٢٢۔ ند و تشريح : مَا يَجُوزُ مِنَ الْبَصَاقِ وَالنَّفْخَ فِي الصَّلا نمازمیں تھوکنے کی اجاز- اجازت تو بحالت مجبوری ہے۔ اس سے متعلق بہت سی روایتیں پہلے گزر چکی ہیں ۔ (دیکھئے کتاب الصلوۃ باب ۳۵ تا باب ۳۹) اور پھونکنے کی تشریح عنوان باب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک واقعہ کا حوالہ دے کر کی گئی ہے۔ امام احمد بن حنبل، ابن خزیمہ ، طبری اور ابن حبان نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کی روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسوف کی نماز پڑھائی ۔ وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي الْأَرْضِ وَيَبْكِي وَهُوَ سَاجِدٌ۔ (مسند احمد بن حنبل، جزء ۲ صفحه ۱۵۹) سجده میں آپ کا سانس پھول گیا اور ہچکیاں بندھ گئیں ۔ یہ مراد ہے نفخ سے اور یہ حالت بے اختیاری میں ہوا۔ تفصیل کے لیے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۱۱۰ دیکھئے۔ باب ۱۳ مَنْ صَفَّقَ جَاهِلًا مِنَ الرِّجَالِ فِي صَلَاتِهِ لَمْ تَفْسُدْ صَلَاتُهُ مردوں میں سے جو نا واقفی سے تالی بجائے اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی فِيهِ سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ اس بارے میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ تشريح مَنْ صَفَّقَ جَاهِلًا مِنَ الرِّجَالِ فِي صَلَاتِهِ : عنوان باب میں حضرت حضرت سہل کی جس روایت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ نمبر ۱۲۱۸ میں منقول ہے۔ لوگوں نے حضرت ابو بکر کو توجہ دلا ہ دلانے کے لئے تالیاں بجائیں اور ان کو یہ علم نہ تھا کہ ایسا کرنا جائز نہیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آگاہ کیا تو ان کو نماز دوبارہ پڑھنے کے لئے نہیں فرمایا۔ مسائل میں بعض فقہاء نے غلو و تشدد سے کام لیا ہے۔ جس کی وجہ سے امام بخاری کو یہ باب قائم کرنے پڑے ہیں۔ باب ۱۳ کے ذیل میں الگ روایت درج نہیں کی گئی ؛ صرف حوالہ پر اکتفاء کیا ہے۔ جس کی غالباً یہ وجہ معلوم ہوتی ہے کہ کسی نئی سند سے محولہ روایت نہیں ملی اور نہ کوئی دوسری روایت ۔