صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 561
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۶۱ ١٩ - كتاب التهجد حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيْب قَالَ کہا: يزيد بن ابی حبیب نے مجھ سے بیان کیا، کہا: میں سَمِعْتُ مَرْثَدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْيَزَنِيَّ قَالَ نے مرحد بن عبداللہ یزنی سے سنا۔کہتے تھے: میں أَتَيْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرِ الْجُهَنِيَّ فَقُلْتُ أَلَا حضرت عقبہ بن عامر جہنی (صحابی) کے پاس آیا اور أَعْجِبُكَ مِنْ أَبِي تَمِيمِ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ میں نے کہا: کیا میں آپ کو ابو تمیم ( حضرت عبد اللہ بن قَبْلَ صَلَاةِ الْمَغْرِبِ فَقَالَ عُقْبَةُ إِنَّا كُنَّا مالک کی عجیب بات نہ بتاؤں؟ مغرب کی نماز سے تَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ پہلے دو رکعتیں پڑھتے ہیں۔عقبہ نے کہا: ہم بھی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ فَمَا يَمْنَعُكَ الْآنَ قَالَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایسا ہی کیا کرتے تھے۔میں نے کہا: تو اب آپ کو کیا روک الشغل۔تشریح: ہے؟ انہوں نے جواب دیا: مصروفیت۔الصَّلاةُ قَبْلَ الْمَغْرِبِ : آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جہاں یہ چاہتے تھے کہ لوگ بطیب خاطر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہیں۔وہاں اس بات کو بھی ملحوظ رکھتے تھے کہ عبادت لوگوں پر بوجھ نہ ہو۔مغرب سے پہلے دور کعتیں بھی ان نوافل میں سے ہیں، جن کا پڑھنایا نہ پڑھنا نمازی کے اختیار پر ہے اور یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ہمیشہ نہیں پڑھیں۔امام احمد بن حنبل ، ابوداؤد، ترندی اور ابن حبان نے عصر سے پہلے چار رکعتیں پڑھے جانے کی نسبت بعض روایتیں نقل کی ہیں۔جو امام بخاری کی شرط کے مطابق نہیں ، اس لئے انہیں نظر انداز کر دیا ہے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۷۷) بَابِ ٣٦: صَلَاةُ النَّوَافِلِ جَمَاعَةً نفل با جماعت پڑھنا ذَكَرَهُ أَنَسٌ وَعَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا حضرت انس اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے نقل کیا۔عن النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۱۱۸٥ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا :۱۱۸۵ الحق ( بن راہویہ ) نے مجھ سے بیان ނ يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَن کیا، کہا : ) یعقوب بن ابراہیم نے ہم۔ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ بیان کیا۔انہوں نے کہا: ) میرے باپ نے (ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الصلوة قبل العصر) (ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الاربع قبل العصر)