صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 554
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵۴ ١٩ - كتاب التهجد ١١٧٣: وَحَدَّثَتْنِي أُخْتِي حَفْصَةُ أَنَّ ۱۱۷۳ اور میری بہن حفصہ نے مجھ سے بیان کیا کہ النَّبِيَّ كَانَ يُصَلِّي سَجْدَتَيْن نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلوع فجر کے بعد دو ہلکی ہلکی رکعتیں خَفِيفَتَيْن بَعْدَ مَا يَطْلُعُ الْفَجْرُ وَكَانَتْ پڑھا کرتے تھے اور وہ ایسا وقت تھا کہ میں اس میں نبی سَاعَةً لَا أَدْخُلُ عَلَى النَّبِيِّ ﷺ فِيْهَا۔صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں جاتا تھا۔تَابَعَهُ كَثِيرُ بْنُ فَرْقَدٍ وَأَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ عبید اللہ کی طرح) یہ بات کثیر بن فرقد اور ایوب نے وَقَالَ ابْنُ أَبِي الزِنَادِ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ بھی نافع سے روایت کی اور ابن ابی زناد نے بھی اس کو موسیٰ بن عقبہ سے بروایت نافع نقل کیا ہے۔اس میں یہ عَنْ نَّافِعِ بَعْدَ الْعِشَاءِ فِي أَهْلِهِ۔اطرافه: ۶۱۸، ۱۱۸۱ الفاظ ہیں : عشاء کے بعد اپنے کنبے میں۔شریح : اَلتَّطَوُّعُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ : جس روایت کا حوالہ باب مذکور کے ذیل میں دیا گیا ہے، اس میں ظہر کے سوا باقی تین نمازوں میں نفل بعد نماز فریضہ پڑھنے کا ذکر ہے۔اس لئے عنوانِ باب بھی بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ کے الفاظ سے قائم کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم مغرب اور عشاء کے نفل گھر میں پڑھا کرتے تھے۔صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ اللہ سے یہ مراد نہیں کہ حضرت ابن عمر نے یہ نوافل آپ کے ساتھ باجماعت پڑھے بلکہ یہ مراد ہے کہ آپ نے بھی پڑھے اور حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی۔باب ۳٠: مَنْ لَّمْ يَتَطَوَّعَ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ جو فرضوں کے بعد نفل نہ پڑھے ١١٧٤: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۱۷۴ علی بن عبداللہ مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو قَالَ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عمرو بن دینار ) سَمِعْتُ أَبَا الشَّعْشَاءِ جَابِرًا قَالَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے ابوالشعشاء جابر سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا (بن زید) سے سنا۔کہتے تھے۔میں نے حضرت ابن عباس قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ رضی اللہ عنہما سے سنا۔انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَا جَمِيعًا وَسَبْعًا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعتیں اور سات رکعتیں جمع جَمِيْعًا قُلْتُ يَا أَبَا الشَّعْشَاءِ أَظُنُّهُ أَخَرَ کر کے پڑھیں۔( عمرہ کہتے تھے ) میں نے کہا: ابوالشعشاء!