صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 553 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 553

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵۳ ١٩ - كتاب التهجد تشريح : مَا يُقْرَءُ فِي رَكْعَتَي الْفَجْرِ : کرم صلی الہ عیہ وسلم کی یہ دور میں ہلکی پڑھا کرتے تھے۔ -------- ایر ۔ اس سے یہاں تک کہ دیکھنے والے کو خیال پیدا ہوتا کہ آیا آپ نے نے سورہ فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں۔ اس فقہاء نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اس میں قرآت او اونچی آوا آواز سے نہ پڑھی جائے اور امام مالک نے صرف سورہ سورہ فاتحہ پڑھنا مستحب قرار دیا ہے۔ امام شافعی کے نزدیک کوئی حرج نہیں اگر چھوٹی سی سورۃ بھی پڑھ لی جائے ۔ امام ابو حنیفہ ۔ ۔ نے قرآت و عدم قرأت سے متعلق مطلق اجازت دی ہے۔ غرض یہ اختلاف مد نظر رکھ کر مذکورہ بالا باب قائم کیا گیا ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت عائشہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ آپ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ اور قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ پڑھا کرتے تھے۔ (سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة، باب ما جاء فيما يقرأ في الركعتين قبل الفجر) جس فریق کی یہ رائے ہے کہ تعیین کی ضرورت نہیں ، اس نے فَاقْرَءُ وُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ سے استدلال کیا ہے۔ امام بخاری نے بھی کوئی تخصیص نہیں کی۔ تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۱ ۶۲ ۔ {أَبْوَابُ التَّطَوُّع } باب ۲۹ : التَّطَوُّعُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ فرضوں کے بعد اپنی خوشی سے نماز پڑھنا ۱۱۷۲: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا ۱۱۷۲: مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: یحی بن يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ أَخْبَرَنَا سعید (قطان) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبیداللہ (عمری ) نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ منهُ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: نافع نے مجھے بتایا کہ حضرت النَّبِيِّ ﷺ سَجْدَتَيْنِ قَبْلَ الظَّهْرِ وَسَجْدَتَيْنِ ابن عمر سے مروی ہے ۔ ڑ سے مروی ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ بَعْدَ الْظُهْرِ وَسَجَدَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں ظہر سے پہلے اور دور اور دو رکعتیں ظہر کے بعد اور دو رکعتیں مغرب کے بعد اور دور کعتیں عشاء کے الله وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ وَسَجْدَتَيْنِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَأَمَّا الْمَعْرَبُ وَالْعَشَاءُ فَفِي بَيْتِهِ بعد اور دورکعتیں نماز جمہ کے بعد پرھیں مغرب اور عشاء بین کی رکعتیں تو آپ اپنے گھر میں پڑھتے تھے ۔ اطرافه ۹۳۷، 1165، 1180۔ عنوان أبواب التطوع فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۶۵) یہ الفاظ حدیث فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۲۵ )