صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 555
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵۵ ١٩ - كتاب التهجد لظُّهْرَ وَعَجَلَ الْعَصْرَ وَعَجَلَ الْعِشَاءَ میرا خیال ہے۔آپ نے ظہر تو دیر سے اور عصر جلدی پڑھی وَأَخَرَ الْمَغْرِبَ قَالَ وَأَنَا أَظُنُّهُ۔ہوگی اور عشاء جلدی اور مغرب دیر سے پڑھی ہوگی۔ابوالشعشاء نے کہا۔میں بھی یہی خیال کرتا ہوں۔اطرافه: ٥٤٣، ٥٦٢۔تشریح: مَنْ لَّمْ يَتَطَوَّعُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ : يعني جب دو نماز میں جمع کرے تو پھر نکل نہ پڑھے۔حضرت ابن عباس کی یہ روایت کتاب المواقیت میں گذر چکی ہے۔(دیکھئے روایت نمبر ۵۴۳) بَاب ۳۱: صَلَاةُ الضُّحَى فِي السَّفَرِ سفر میں چاشت کی نماز پڑھنا :١١٧٥: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ حَدَّثَنَا :۱۱۷۵ مسدد نے ہم سے بیان کیا، کہا: تسمي (بن يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ عَنْ تَوْبَةَ عَنْ مُوَرَق سعید قطان) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے شعبہ سے، قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا شعبہ نے تو بہ ( بن کیسان) سے، تو بہ نے مؤرق (بن أَتُصَلِّي الضُّحَى قَالَ لَا قُلْتُ فَعُمَرُ مشرج) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے قَالَ لَا قُلْتُ فَأَبُو بَكْر قَالَ لا قُلْتُ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا آپ صحی کی نماز پڑھتے ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں۔میں نے پوچھا: حضرت عمر؟ کہا: نہیں۔میں نے پوچھا: حضرت ابوبکر کہا: نہیں۔میں نے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم ؟ فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا إحَالُهُ۔کہا: میرا خیال ہے نہیں۔١١٧٦ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ :۱۷۶ آدم ( بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ ) کہا :) شعبہ نے ہمیں بتایا۔(کہا: ) عمرو بن مرہ نے ( الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى يَقُوْلُ مَا حَدَّثَنَا ہم سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمن أَحَدٌ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن ابی لیلیٰ سے سنا۔کہتے تھے : ہم سے سوائے حضرت يُصَلِّي الضُّحَى غَيْرُ أُمَ هَانِي فَإِنَّهَا قَالَتْ ام ہانی کے کسی نے بیان نہیں کیا کہ انہوں نے نبی