صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 550
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵۰ ١٩ - كتاب التهجد بِرَكْعَتَيِ الضُّحَى وَقَالَ عِتْبَانُ غَدَا دورکعتیں پڑھنے کی تاکید فرمائی اور حضرت عتبان بن عَلَيَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مالک کہتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ مَا امْتَدَّ رضی اللہ عن صبح کو جبکہ دن کافی چڑھ چکا تھا، میرے پاس النَّهَارُ وَصَفَفْنَا وَرَاءَهُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ۔ آئے اور ہم آپ کے پیچھے میں باندھ کر کھڑے ہو گئے۔ آپ نے دورکعتیں پڑھائیں۔ تشریح مرا في المطار ع م ا نے استدلال کیا کہ ان کے ناول کا چار رکھتیں کر کے ع مثنى مثنى : باب میں گذر چکا ہے کہ رات کی نماز یعنی تہجد دو دورکعت جَاءَ فِي التَّطَوُّعِ جائے۔ سے " ہے پڑھے جائیں۔ اس خیال کو رڈ کرنے کے لئے امام بخاری نے یہ باب قائم کیا ہے اور عنوان باب کو مطلق رکھ کر رات اور دن کی خصوصیت اُڑادی ہے اور اس میں بعض صحابہ اور تابعین کے عمل درآمد کا حوالہ دیا ہے۔ حضرت عمار ، حضرت ابوذر اور عکرمہ سے متعلق ابن ابی شیبہ نے روایت نقل کی ہے (مصنف ابن ابی شیبه، كتاب الصلوات، باب من كان يقول اذا دخلت المسجد فصل ركعتين، جزء اول صفحه ۲۹۹، روایت نمبر ۳۴۲۴٬۳۴۲۱، ۳۴۲۶) اور حضرت انس کا حوالہ اس باب کی روایت نمبر ۱۱۶۴ میں مختصر اور کتاب الصلوۃ، باب ۲۰ روایت نمبر ۳۸۰ میں مفصل مذکور ہے۔ نیز اس باب میں آٹھ روایتیں مرفوعاً نقل کی ہیں، جن میں سے چھ موصول ہیں ( روایات نمبر ۱۱۶۲ تا ۱۱۶۷) اور آخری دو معلق تحت روایت نمبر ۷ ۱۱۶) امام ابو حنیفہ کا مذہب مسئلہ معنونہ کے بارہ میں یہ ہے کہ دن کے نوافل خواہ دو دو خواہ چار چار کر کے پڑھے جائیں ، نمازی کو اختیار ہے۔ مگر جمہور کا مذہب یہ ہے کہ نوافل خواہ رات کو پڑھے جائیں یا دن کو، پسندیدہ بات یہی ہے کہ دو دو کر کے پڑھے جائیں ۔ امام بخاری ان تمام مستند حوالوں سے یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ كتاب تقصير الصلاة باب ۱۲ میں حضرت ام ہانی کی روایت ( نمبر ۱۱۰۳) بھی اس تعلق میں ملاحظہ ہو۔ باب ٢٦ : الْحَدِيثُ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فجر کی دورکعتوں کے بعد باتیں کرنا ١١٦٨ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۱۶۸: ہم سے علی بن عبداللہ (مدینی) نے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنِي کہا: سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا ۔ انہوں نے أَبِي عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ کہا: ابو نصر نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا۔ انہوں نے اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَإِنْ فَإِنْ كُنْتُ روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتیں پڑھتے ۔ دور ۔ پھر اگر