صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 549
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۴۹ ١٩ - كتاب التهجد أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَوْ قَدْ خَرَجَ فرمایا: جب تم میں سے کوئی (مسجد میں ) آئے اور امام لوگوں سے مخاطب ہو یا وہ (خطبہ کے لئے ) نکل چکا ہو تو چاہیے کہ وہ دور کعتیں نماز پڑھ لے۔فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ۔اطرافه ۹۳۰، ۹۳۱ ١١٦٧: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ :۱۱۶۷ ابونعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: سیف بن حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَكِيُّ سلیمان کی نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے کہا: ) سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُوْلُ أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ میں نے مجاہد سے سنا۔وہ کہتے تھے: حضرت ابن عمر رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي مَنْزِلِهِ فَقِيْلَ لَهُ رضی اللہ عنہما کے پاس اُن کے گھر میں کسی نے آکر هَذَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ان سے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( تو آ گئے ) قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ قَالَ فَأَقْبَلْتُ فَأَجِدُ ہیں۔آپ تو کعبہ میں داخل بھی ہو گئے ہیں۔حضرت رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عبد اللہ کہتے تھے: میں آیا اور کیا دیکھا کہ رسول اللہ خَرَجَ وَأَجِدُ بِلَالًا عِنْدَ الْبَابِ قَائِمًا صلى اللہ علیہ وسلم ( کعبہ سے) نکل آئے ہیں اور فَقُلْتُ يَا بِلَالُ {أَ صَلَّى رَسُولُ اللهِ حضرت بلال کو دروازہ کے پاس کھڑا پایا۔میں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ قَالَ کہا: بلال ! ( کیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نَعَمْ قُلْتُ فَأَيْنَ قَالَ بَيْنَ هَاتَيْنِ کہے میں نماز پڑھی ہے؟ حضرت بلال نے جواب الْأَسْطُوَانَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ دیا: ہاں۔میں نے پوچھا: کہاں؟ انہوں نے کہا: ان فِي وَجْهِ الْكَعْبَة۔دوستونوں کے درمیان۔اس کے بعد باہر آ کر آپ نے کعبے کے دروازے کے سامنے دور کعتیں پڑھیں۔أطرافه ،٣٩٧، ٤٦٨، ٥٠٤، ٥٠٥، ٥٠٦، ۱۱۷۱، ۱۵۹۸، ۱۹۹۹، ۲۹۸۸، ٤٤٠٠۔قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ طه ابو عبدالله (امام بخاری) نے کہا: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ أَوْصَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کہتے تھے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چاشت کی الله لفظ ”اصلی فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ثالث حاشیہ صفہ ۶۴)