صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 551 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 551

صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵۱ ١٩ - كتاب التهجد مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ قُلْتُ میں جاگتی ہوتی تو آپ مجھ سے باتیں کرتے، ورنہ لیٹ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ يَرْوِيْهِ رَكْعَتَي جاتے ۔ (علی بن مدینی کہتے تھے: ) میں نے سفیان سے کہا: الْفَجْرِ قَالَ سُفْيَانُ هُوَ ذَاكَ۔ بعض یوں روایت کرتے ہیں: فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔ اطرافه: ١١١٩، ١١٦١۔ سفیان نے جواب دیا: وہی تو ہیں۔ تشريح : الْحَدِيثُ بَعْدَ رَكْعَتَى الْفَجرِ : ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود ے نقل کیا ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد کلام کرنا مکروہ ہے۔ مگر یہ صیح نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۵۸) بَاب ۲۷ : تَعَاهُدُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَمَنْ سَمَّاهُمَا تَطَوُّعًا فجر کی دورکعتیں التزام سے پڑھنا اور جس نے ان کا نام نفل رکھا ١١٦٩ : حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرٍو ۱۱۶۹: بیان بن عمرو نے ہمیں بتایا ، کہا: ) یحی بن حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ سعید (قطان ) نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں نے جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ کہا: ) ابن جریج نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عطاء سے، عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ عطاء نے عبید بن عمیر سے، عبید نے حضرت عائشہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ۔ وہ کہتی تھیں۔ نبی ہے أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ۔ نفلوں میں سے کسی کی اتنی سختی سے پابندی نہیں کرتے تھے جتنی فجر کی دورکعتوں کی۔ صلى الله عروسه صلى الله علية تشريح : تَعَاهُدُ رَكَعَتَي الْفَجْرِ وَ مَنْ سَمَّاهُمَا تَطَوُّع : یہ کھتیں باو جو نفل ہونے کے بی ای پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے۔ مسند بیہقی میں ابن جریج کی یہ روایت ہے: قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَوَاجِبَةٌ رَكْعَتَا مذکورہ بالا الْفَجْرِ أَوْ هِيَ مِنَ التَّطَوُّعِ میں نے عطاء سے پوچھا : آیا فجر کی رکعتیں واجب ہیں یا نفل ؟ تو انہوں نے مذکر روایت ( نمبر ۱۱۶۹) کا حوالہ دیا جس میں وہ نفل قرار دی گئی ہیں ۔ علاوہ ازیں اس تعلق میں کتاب التجد باب ۲۲ کی تشریح بھی دیکھئے۔