صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 551
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۵۱ ١٩ - كتاب التهجد مُسْتَيْقِظَةً حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ قُلْتُ میں جاگتی ہوتی تو آپ مجھ سے باتیں کرتے ، ورنہ لیٹ لِسُفْيَانَ فَإِنَّ بَعْضَهُمْ يَرْوِيْهِ رَكْعَتَي جاتے۔( علی بن مدینی کہتے تھے ) میں نے سفیان سے کہا: بعض یوں روایت کرتے ہیں: فجر کی دو رکعتیں پڑھتے۔الْفَجْرِ قَالَ سُفْيَانُ هُوَ ذَاكَ۔اطرافه: ۱۱۱۹، ١١٦١۔تشریح: سفیان نے جواب دیا: وہی تو ہیں۔الْحَدِيثُ بَعْدَ رَكْعَتَى الْفَجْر : ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن مسعود سے نقل کیا ہے کہ فجر کی سنتوں کے بعد کلام کرنا مکروہ ہے۔مگر یہ میچ نہیں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۵۸) بَاب ۲۷ : تَعَاهُدُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَمَنْ سَمَّاهُمَا تَطَوُّعًا فجر کی دور کعتیں التزام سے پڑھنا اور جس نے ان کا نام نفل رکھا ١١٦٩: حَدَّثَنَا بَيَانُ بْنُ عَمْرُو :۱۱۶۹ بیان بن عمرو نے ہمیں بتایا، کہا: ) يحي بن حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ سعید (قطان) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں نے جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ کہا : ابن جریج نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عطاء سے، عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَمْ يَكُن النَّبِيُّ عطاء نے عبید بن عمیر سے، عبید نے حضرت عائشہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِل رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔وہ کہتی تھیں: نبی ﷺ نفلوں میں سے کسی کی اتنی سختی سے پابندی نہیں کرتے أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ۔تھے جتنی فجر کی دورکعتوں کی۔تشریح: پابندی کے ساتھ پڑھتے تھے۔مسند بیہقی میں ابن جریج کی یہ روایت ہے: قُلْتُ لِعَطَاءٍ أَوَاجِبَةٌ رَكُعْنَا الْفَجْرِ أَوْ هِيَ مِنَ التَّطَوُّع۔میں نے عطاء سے پوچھا: آیا فجر کی رکعتیں واجب ہیں یا نفل ؟ تو انہوں نے مذکورہ بالا روایت ( نمبر ۱۱۶۹) کا حوالہ دیا جس میں وہ نفل قرار دی گئی ہیں۔علاوہ ازیں اس تعلق میں کتاب التهجد باب ۲۲ کی تَعَاهُدُ رَكْعَتَى الْفَجْرِ وَمَنْ سَمَّاهُمَا تَطَوُّعاً: یہ رکعتیں باوجود نفل ہونے کے نبی ﷺ تشریح بھی دیکھئے۔