صحیح بخاری (جلد دوم)

Page 537 of 796

صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 537

صحیح البخاری جلد ۲ ۵۳۷ ١٩ - كتاب التهجد ہے۔ السَّارِيَتَيْنِ فَقَالَ مَا هَذَا الْحَبْلُ قَالُوا ہیں کہ ایک رسی دوستونوں کے درمیان تنی ہوئی هَذَا حَبْلٌ لِزَيْنَبَ فَإِذَا فَتَرَتْ تَعَلَّقَتْ آپ نے پوچھا : یہ رسی کیسی ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حضرت زینب کی رہی ہے۔ جب تھک جاتی ہیں تو حُلُّوهُ لِيُصَلِّ أَحَدُكُمْ نَشَاطَهُ فَإِذَا فَتَرَ اس سے سہارا لیتی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا نہیں۔ اسے کھول دو۔ چاہیے کہ ہر شخص تم میں سے جب تک فَلْيَقْعُدْ۔ دل لگار ہے، نماز پڑھے۔ جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔ ١١٥١ : قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ۱۱۵۱: اور امام بخاری نے) کہا: عبداللہ بن مسلمہ قعنبی) عَنْ مَالِكٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ نے کہا: انہوں نے مالک سے، مالک نے ہشام بن عروہ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ سے، ہشام نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ کہتی تھیں : بنی اسد و فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ (قبیلہ ) کی ایک عورت (جس کا نام خولہ بنت تو بیت تھا) وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ هَذِهِ قُلْتُ فُلَانَةٌ لَا صلى الله ۔ میرے پاس ( بیٹھی ہوئی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ تشریف تَنَامُ اللَّيْلَ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا فَقَالَ مَنْ لائے اور آپ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: وہ عَلَيْكُمْ مَا تُطِيقُوْنَ مِنَ الْأَعْمَالِ فَإِنَّ عورت جو رات بھر نہیں ہوتی اور اس کی نماز کا حال بیان اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوْا ۔ اطرافه: ٤٣۔ کیا۔ آپ نے فرمایا: بس چپ رہو۔ اتنا ہی عمل کرو جتنا تم کر سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ تو نہیں اُکتا تا۔ مگر تم اُکتا جاؤ گے۔ تشريح : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّشْدِيدِ فِي الْعِبَادَةِ : اسلام برما میں افراط وتفریط نا پسند کرتاہے اور اس روح اخلاص کو پیدا کرنا چاہتا ہے جو درحقیقت اعمالِ صالحہ کی جان ہے۔ تسبیحات اور نوافل کی گنتی پوری کر لینا کوئی بڑا مجاہدہ نہیں اور نہ ایسی عبادتیں کوئی قیمت رکھتی ہیں جن میں جذبات محبت اور ذوق و شوق موجزن نہ ہوں ۔ اس حدیث کے تعلق میں دیکھیں تشریح کتاب الایمان باب ۲۹ ، روایت نمبر ۳۹ و باب ۱۳۲ روایت نمبر ۴۳۔