صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 536
صحيح البخاري جلد ۲ ۵۳۶ ١٩ - كتاب التهجد صل الله أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ ابوحیان نے ابوزرعہ سے، ابوزرعہ نے حضرت عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے قَالَ لِبِلَالٍ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ يَا بِلَالُ حضرت بلال سے صبح کی نماز کے وقت فرمایا: بلال ! مجھے بتاؤ جو عمل سب سے زیادہ امید والا تم نے اسلام حَدِثْنِي بِأَرْجَى عَمَلٍ عَمِلْتَهُ فِي میں کیا ہو۔کیونکہ میں نے بہشت میں اپنے آگے الْإِسْلَامِ فَإِنِّي سَمِعْتُ دَفَّ نَعْلَيْكَ بَيْنَ تمہارے پاؤں کی چاپ سنی ہے۔حضرت بلال نے يَدَيَّ فِي الْجَنَّةِ قَالَ مَا عَمِلْتُ عَمَلًا کہا: اپنے نزدیک میں نے اس سے زیادہ امید والا أَرْجَى عِنْدِي أَنِّي لَمْ أَتَطَهَّرْ طَهُورًا فِي عمل اور کوئی نہیں کیا کہ جب بھی میں نے رات کو یا سَاعَةِ لَيْلِ أَوْ نَهَارِ إِلَّا صَلَّيْتُ بِذَلِكَ دن کو کسی وقت وضو کیا تو میں نے اس وضو کے ساتھ الطُّهُوْر مَا كُتِبَ لِي أَنْ أُصَلِّي قَالَ أَبو نماز ضرور پڑھی ہے، جتنی بھی میرے لئے پڑھنا عَبْدِ اللَّهِ دَفَ نَعْلَيْكَ يَعْنِي تَحْرِيْكَ مقدر تھی۔ابوعبداللہ (امام بخارٹی) نے کہا: پاؤں کی چاپ سے مراد (اُن کا) حرکت کرنا ہے۔تشریح فَضْلُ الطُّهُور باللَّيْلِ وَالنَّهَار : روایت نمبر ۱۴۹ کا واقعہ ایک رؤیا ہے۔جس میں نبی ہے کو حضرت بلال کی روحانی حالت عالم مثال میں دکھلائی گئی۔حضرت بلال کے جواب سے معنونہ مسئلہ استنباط کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کو افضل الاعمال قرار دیا ہے اور نمازوں میں سے وہ نماز اللہ تعالیٰ کو زیادہ پیاری ہے جو پوشیدہ پڑھی جائے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کو حضرت بلال کی روحانی حالت کا مشاہدہ کرایا گیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے پہلے جنت میں داخل ہوئے۔باب ۱۸ : مَا يُكْرَهُ مِنَ التَّشْدِيدِ فِي الْعِبَادَةِ عبادت میں سختی جو ناپسند یدہ ہے ١١٥٠: حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَر حَدَّثَنَا :۱۱۵۰ ابومعمر ( عبد اللہ بن عمرو) نے ہم سے بیان عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ کیا، کہا: ) عبدالوارث نے ہم سے بیان کیا۔انہوں صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْن مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ نے کہا: عبد العزیز بن صہیب نے ہمیں بتایا کہ حضرت عَنْهُ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔انہوں نے وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبْلٌ مَمْدُودٌ بَيْنَ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔کیا دیکھتے