صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 538
صحیح البخاري جلد ۲ ۵۳۸ ١٩ - كتاب التهجد بَاب ۱۹ : مَا يُكْرَهُ مِنْ تَرْك قيام اللَّيْلِ لِمَنْ كَانَ يَقُومُهُ ایسے شخص کا رات کی عبادت ترک کر دینا نا پسندیدہ ہے جو ( پہلے ) رات کو عبادت کیا کرتا تھا ١١٥٢ : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ الْحُسَيْنِ :۱۱۵۲ عباس بن حسین نے ہم سے بیان کیا، کہا، مبشر ( بن حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ عَنِ الْأَوْزَاعِي - اسماعیل کلبی ) نے ہمیں بتایا کہ اوزاعی سے مروی ہے۔وَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلِ أَبُو اور محمد بن مقاتل ابوالحسن نے بھی مجھ سے بیان کیا، کہا: الْحَسَن قَالَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ قَالَ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: أَخْبَرَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ اوزاعی نے ہم سے بیان کیا، کہا: بسیجی بن ابی کثیر نے ہمیں قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ بتایا، کہا: ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے مجھ سے بیان کیا۔انہوں عَبْدِ الرَّحْمَن قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ نے کہا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص نے مجھ سے بیان عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ کیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: قَالَ لِي رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ عبدالله ! اس شخص کی طرح نہ ہونا جورات کو اُٹھا کرتا تھا۔پھر وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَكُنْ مِثْلَ فُلَانٍ اس نے رات کو اٹھنا چھوڑ دیا۔اور ہشام بن عمار ) نے کہا۔كَانَ يَقُوْمُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَرَكَ قِيَامَ اللَّيْلِ ( عبد الحميد ) بن ابی العشرین نے ہم سے بیان کیا، کہا وَقَالَ هِشَامٌ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الْعِشْرِيْنَ اور زاعی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے کہا: بحي ( بن ابی کثیر ) قَالَ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى نے ہمیں بتایا۔عمر بن حکم بن ثوبان سے مروی ہے کہ انہوں عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ بْنِ ثَوْبَانَ قَالَ نے کہا: ابوسلمہ بن عبدالرحمن ) نے مجھ سے یہی حدیث بیان حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بِهَذَا مِثْلَهُ وَتَابَعَهُ کی اور ( ابن ابی العشرین کی طرح ) عمرو بن ابی سلمہ نے بھی عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنِ الْأَوْزَاعِي۔اوزاعی سے روایت کرتے ہوئے یہ بیان کیا۔اطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۵۳، ۱۹۷۱، ۱۹۷۵، ۱۹۷۶، ۱۹۷۷، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، ۳۶۱۸، ۳۴۱۹، ۳٤۲۰، ٥٠٥۲، ٥۰۵۳، ۵۰٥٤، ٥۱۹۹، ٦١٣٤، ٦٢٧٧۔تشریح : مَا يُكْرَهُ مِنْ تَرُكِ قِيَامِ اللَّيْلِ : جس طرح اعمال میں اپنے نفس و جسم کو بلاضرورت مشقت میں ڈالنا نا پسندیدہ فعل ہے۔اسی طرح یہ بھی نا پسندیدہ ہے کہ نیکی کی راہ پر گامزن ہونے کے بعد پھر ڈک