صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 38
صحیح البخاری جلد ۲ ۳۸ ١٠ - كتاب الأذان صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ بن کیسان سے، صالح نے ابن شہاب سے، ابن أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ شہاب نے ابو سلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَقَدْ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر آئے أَقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِلَتِ الصُّفُوفُ اور تکبیرا قامت ہو چکی تھی اور صفیں برابر کی گئی تھیں۔ یہاں تک کہ جب آپ اپنی نماز گاہ میں کھڑے حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ انْتَظَرْنَا أَنْ ہو گئے تو ہم انتظار میں تھے کہ آپ اللہ اکبر کہیں يُكَبِّرَ انْصَرَفَ قَالَ عَلَى مَكَانِكُمْ گے۔ اتنے میں آپ مڑے، فرمایا: اپنی جگہ پر ہی فَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا رہو۔ ہم جیسے تھے ٹھہرے رہے۔ آخر آپ ہمارے يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً وَقَدِ اغْتَسَلَ۔ پاس باہر آئے ۔ آپ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا اور اطرافه: ٢٧٥، ٦٤٠۔ آپ نے غسل کیا تھا۔ ☆ تشريح : هَلْ يَخْرُجُ مِنَ الْمَسْجِدِ لِعِلَّةٍ: مسلم اور ابوداؤد وغیرہ نے حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابو ہریرہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ آذان سن کر مسجد سے چلا گیا تو انہوں نے ناپسند فرمایا۔ ( فتح الباری جزء ثانی صفحہ (۱۲) طبرانی نے بھی حضرت ابو ہریرہ سے اسی مفہوم کی ایک روایت نقل کی ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں: لَا يَسْمَعُ النِّدَاءَ فِي مَسْجِدِى ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْهُ إِلَّا لِحَاجَةٍ ثُمَّ لَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ الَّا مُنَافِقٌ - (المعجم الأوسط، من اسمه علی روایت نمبر ۳۸۴۲، جز ۴۰ صفحه ۱۵۰) یعنی میری مسجد سے اذان سن کر جو بغیر ضرورت کے باہر نکل جاتا ہے اور واپس نہیں آتا تو وہ منافق ہے۔ امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ بلا وجہ باب قائم نہیں کرتے ۔ بلکہ اپنے زمانے کے فتووں اور مسئلوں میں شدت غیر مشروعہ کو روکنے کے لئے باب قائم کرتے ہیں۔ جنابت وحدت کی معذوریاں ایسی ہیں جن کی وجہ سے انسان باہر جا سکتا ہے۔ مسلم، ابوداؤد وغیرہ محدثین نے ابو شعثاء کی سند سے حضرت ابو ہریرہ کی ایک روایت نقل کی ہے کہ اذان ہونے پر ایک شخص مسجد سے باہر گیا تو حضرت ابو ہریرہ نے کہا: ا تو حضرت ابو ہریرہ نے کہا: اَمَّا هَذَا فَقَدْ عَصَى أَبَا الْقَاسِمِ الله اس نے ابو القاسم کی نافرمانی کی ہے۔ امام موصوف نے اس قسم کی روایتوں ! کی روایتوں اور مسئلوں میں تشدد کی صورت دیکھ کر صورت دیکھ کر مندرجہ بالا باب قائم کیا ہے۔ اگر مشار الیہ روایت و ایت درست ہو تو صرف اس قدر ثابت ہوگا کہ ج ہوگا کہ جس شخص کے جانے کو آپ نے ناپسند فرمایا ، وہ بغیر ضرورت کے گیا ہوگا۔ ( فتح الباری - جزء ثانی صفحه ۱۵۹) یہ روایت چونکہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی شرائط کے مطابق نہیں اس لئے اسے قبول نہیں کیا اور نہ ایسی شاذ روایتوں پر فتوی کی بناء رکھی جاسکتی ہے۔ (مسلم۔ كتاب المساجد باب النهي عن الخروج من المسجد اذا اذن المؤذن ) ابو داؤد کتاب الصلوة باب الخروج من المسجد بعد الاذان)