صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 523
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۲۳ ١٩ - كتاب التهجد يَقْرَأُ الرَّجُلُ خَمْسِيْنَ آيَةً۔اطرافه: ٥٧٦۔کہا: اتنا جتنا کہ آدمی پچاس آیات پڑھ لے۔تشریح : مَنْ تَسَخَّرَ فَلَمْ يَنَمْ حَتَّى صَلَّى الصُّبحَ : سحری کے وقت کی تشریح یقین کے لئے یہ باب قائم کیا گیا ہے تا حضرت عائشہ کے قول سے جو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے، دور ہو جائے۔اگلا باب بھی یہی ثابت کرنے کے لئے قائم کیا گیا ہے کہ آپ تہجد کے وقت دیر تک کھڑے رہ کر عبادت الہی بجالاتے تھے۔جس سے آپ کو تھکان ہو جاتی اور آپ کچھ آرام کر کے اسے دور کرتے اور پھر تازہ دم ہو کر نماز فریضہ کی ادائیگی کے لئے کھڑے ہو جاتے۔مگر رمضان میں ایسا نہ کرتے۔چونکہ کھانے کے بعد گہری نیند سو جانے کا احتمال ہوتا ہے۔اس لئے احتیاط فرماتے اور کھانا آخر وقت میں تناول فرماتے تھے ، جبکہ فجر نمودار ہونے کے قریب ہوتی۔باب ۹ : طُوْلُ الْقِيَامِ فِي صَلَاةِ اللَّيْلِ رات کی نماز میں دیر تک کھڑے رہنا ١١٣٥ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبِ :۱۱۳۵ سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے، ائمش وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نے ابى وائل سے، انہوں نے حضرت عبد اللہ نے صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ( بن مسعود) سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ایک وَسَلَّمَ لَيْلَةً فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّی رات میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ قُلْنَا وَمَا هَمَمْتَ آپ اتنا کھڑے رہے کہ میں نے ایک بری بات کا قَالَ هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ وَأَذَرَ النَّبِيَّ صَلَّى ارادہ کیا۔ہم نے کہا: آپ نے کیا ارادہ کیا؟ اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔جواب دیا کہ میں نے ارادہ کیا کہ بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ دوں۔١١٣٦ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ :١١٣٦ حفص بن عمر نے ہم سے بیان کیا ، کہا: ۱۱۳۶ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ خالد بن عبداللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حصین حُصَيْنِ عَنْ أَبِي وَائِلِ عَنْ حُذَيْفَةَ ( بن عبد الرحمن) سے، حصین نے ابووائل سے، (بن رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ابووائل نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت