صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 524
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۲۴ ١٩ - كتاب التهجد وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا قَامَ لِلتَّهَجُدِ مِنَ اللَّيْلِ کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لئے اُٹھتے تو مسواک سے دانت رگڑ کر اپنا منہ صاف کرتے۔يَسُوصُ فَاهُ بِالوَاكِ۔اطرافه ۲٤٥، ۸۸۹ تشریح : هَمَمْتُ بِأَمْرِ سَوْءٍ: اس باب سے نما اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ صحابہ کے اندر یکی اور بدی کا شعور کس قدر لطیف تھا۔نبی ﷺ کا آخر تک ساتھ نہ دینے کو برا سمجھا ہے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود نوجوان تھے، مگر پھر بھی انہیں قیام کی اتنی طاقت نہ تھی ، جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو۔روح کی طاقت سے ناتواں جسم بھی طاقت حاصل کر لیتا ہے۔جماعت کی برکات میں سے ایک یہ برکت بھی ہے جس سے کمزور افراد بھی مستفید ہوتے ہیں۔روایت نمبر ۱۱۳۶ کا تعلق عنوان باب کے ساتھ کیا ہے؟ اس کے متعلق شارحین نے مختلف خیالات کا اظہار کیا ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۲۶۔بَاب ۱۰ : كَيْفَ كَانَ صَلَاةُ النَّبِيِّ ﷺ نبی ﷺ ( رات کو ) نماز کس طریق پر ادا فرماتے وَكَمْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو کتنی رکعت ) نماز ادا فرماتے ؟ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ؟ :۱۱۳۷ حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ قَالَ ۱۱۳۷: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا، کہا: شعیب أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَن الزُّهْرِي قَالَ نے ہمیں بتایا کہ زہری سے مروی ہے۔انہوں نے أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ حضرت عبداللہ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ رَجُلًا بن عمررضی اللہ عنہما کہتے تھے: ایک شخص نے پوچھا: قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ كَيْفَ صَلَاةُ اللَّيْلِ يا رسول اللہ ! رات کی نماز کس طرح پڑھی جائے؟ قَالَ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا خِفْتَ الصُّبْحَ آپ نے فرمایا: دو دو رکعت۔جب تمہیں صبح ہونے کا ے اندیشہ ہو تو ایک رکعت سے طاق کر دو۔فَأَوْتِرْ بِوَاحِدَةٍ۔اطرافه ٤٧٢، ٤۷۳، ۹۹۰، ۹۹۳، ۹۹۵، ۱۹۹۸