صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 522
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۲۲ ١٩ - كتاب التهجد کی سنت کا ذکر ہے کہ آپ تیسرے پہر عبادت کے لئے اُٹھتے ۔ مرغ آدھی رات کے بعد آذان دیتا ہے اور یہ وقت آپ کے اٹھنے کا تھا۔ تیسری روایت میں یہ بتایا گیا ہے کہ آپ صبح سے کچھ پہلے سو جاتے۔ مَا الْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا : حضرت عائشہ کے قول مَا الْفَاهُ السَّحَرُ عِنْدِي إِلَّا نَائِمًا مَیں سحری سے مراد یہ نہیں ہو سکتی کہ آپ تہجد کے وقت سوئے ہوتے۔ کیونکہ حضرت عائشہ کا بیان ۱۱۳۲ میں گذر چکا ہے کہ تہجد کے لئے آپ آدھی رات کو اُٹھتے اور آپ کا دستور تھا کہ جو کام شروع کرتے اسے ہمیشہ کرتے ۔ پس سحری سے وہی وقت مراد ہے جو پو پھٹنے سے پہلے ہوتا ہے۔ اسی امر کی تشریح عنوانِ باب کے ا کے الفاظ سے کی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی صلى الله عروسه فطرت اعتدال پر واقع تھی ۔ جیسا آپ اپنی روح کو عبادت کے ذریعہ سے راحت پہنچاتے (یعنی قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصَّلوة ) صلى الله عليه ایسا ہی اپنے جسم کو بھی اس کے ضروری آرام سے محروم نہ رکھتے ۔ علمی تحقیق نے آج ثابت کر دیا ہے کہ نیند کی مقدار جو صحت جسم کے لئے ضروری ہے، وہ بہت تھوڑا عرصہ ہے۔ زیادہ نیند جسم کے اضمحلال کا باعث ہوتی ہے۔ آن ہے۔ آنحضرت علی کی کم خوابی اور آپ کی صحت جسمانی دونوں اس جدید تحقیق کی مؤید ہیں ۔ کیا یہ عجیب بات نہیں کہ نیند کی ایک جھپک سے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اپنی راحت پوری کر لیتا تھا مگر آپ کی روح گھنٹوں کی عبادت سے بھی سیر نہ ہوتی تھی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کا یہ قول سچ ہے: "روح تو مستعد ہے مگر جسم کمزور ہے۔“ (متی باب ۲۶ آیت ۴۲ ) -:١١٣٤ بَاب : مَنْ تَسَخَّرَ فَلَمْ يَنَمْ حَتَّى صَلَّى الصُّبْحَ جو سحری کا کھانا کھائے اور پھر نہ سوئے جب تک کہ صبح کی نماز نہ پڑھ لے : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ۱۱۳۴: یعقوب بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: قَالَ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ روح بن عبادہ ) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكَ اللهُ أَنَّ نَبِيَّ سعيد ( بن ابی عروبہ ) نے ہمیں بتایا۔ سعید نے قتادہ سے، اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَزَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ قتادہ نے حضرت انس بن ما بن مالک رہ سے روایت کی صلى الله رضي عنه رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ تَسَخَّرَا فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ کہ نبی ﷺ اور حضرت زید بن ثابت اللہ نے سحری رضي عنه ۔ صلى الله عليه سَحُوْرِهِمَا قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کھائی۔ جب دونوں سحری سے فارغ ہوئے تو نبی ہے وَسَلَّمَ إِلى الصَّلَاةِ فَصَلَّى قُلْنَا لِأَنَسٍ كَمْ نماز کے لئے کھڑے ہو گئے اور دونوں نے نماز پڑھی۔ كَانَ بَيْنَ فَرَاغِهِمَا مِنْ سَحُورِهِمَا (قارہ کہتے تھے ) ہم نے حضرت انس بن مالک سے وَدُخُولِهِمَا فِي الصَّلَاةِ قَالَ كَقَدْرِ مَا پوچھا بحری اور فجر کی نماز میں کتنا فاصلہ تھا۔ انہوں نے