صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 519
صحيح البخاری جلد ۲ ۵۱۹ ١٩ - كتاب التهجد چیز سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ } آپ کا ران پر ہاتھ مارنا بھی در حقیقت افسوس کا اخر ہاتھ مارنا بھی در حقیقت افسوس کا اظہار تھا اور حضرت علیؓ کا جواب قطعا درست نہ تھا۔ بے شک اللہ تعالیٰ ہی سلاتا اور جگاتا ہے۔ مگر اس نے نیت و عزم جیسی تو تیں بھی انسان کو عنایت کی ہیں۔ جن سے اگر وہ کام لے تو دنیا میں کونسی مشکل ہے جو حل نہیں ہوسکتی۔ فطرتی قوتوں سے کام لینا بھی تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر میں شامل ہے۔ تقدیر کے یہ معنے نہیں کہ انسان جو بُرا کام کرے یا غفلت اس سے سر د ہو، وہ اللہ تعالیٰ کے منشاء سے ہوتی ہے۔ منشاء الہی تو یہ ہے کہ غفلت نہ ہو۔ صل الله مَنْ يُوقِظُ صَوَاحِبَ الْحُجُرَاتِ : مذکورہ بالا باب کی روایتوں ۔ رہ بالا باب کی روایتوں سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ نبی اے عليه اپنے عزیزوں کی اصلاح نفس کا بھی اہتمام فرماتے اور نماز کو تزکیہ نفس کا کا بہت بڑا ذریعہ سمجھتے تھے۔ اپنی بیبیوں کو بھی یہ تہجد کی ترغیب دیتے تھے۔ ( روایت نمبر ۱۱۲۶) اسی طرح اپنے دوسرے رشتہ داروں کو بھی ۔ آپ یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ ان انسان کی ساری رات غفلت میں گذرے۔ (۱۱۲۷) لیکن ۔ من باوجود اس اہتمام و اہتمام و فکر کے آپ نے ساتھ ہی یہ احتیاط بھی فرمائی کہ لوگ کہیں نوافل کو فریضہ نہ سمجھ لیں اور ان پر تہجد کی نماز دو بھر ہو جائے ۔ آپ کے دل میں دونوں قسم کے جذبات پہلو بہ پہلو کام کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ تزکیہ نفس کا اہتمام بھی اور اپنی اُمت کی مشقت کا احساس بھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مقام اعتدال پر قائم کیا تھا اور ا مقام اعتدال پر قائم کیا تھا اور ایک ایسی وسیع اور باریک نظر عطا کی تھی کہ احکام شریعت کی پابندی میں ہر پہلو لحوظ رکھتے تھے۔ باب ٦ : قِيَامُ النَّبِيِّ ﷺ اللَّيْلَ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ } نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رات کو اتنی دیر کھڑا رہنا کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے ہیں وَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ يَقُوْمُ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی تھیں کہ آپ حَتَّى تَفَطَّرَ قَدَمَاهُ وَالْفُطُورُ الشَّقُوق کے پاؤں پھوٹ جاتے ۔ فَطَرَ کے معنے پھوٹنا۔ الْفَطَرَتْ انْشَقَّتْ۔ انْفَطَرَتْ پھوٹ گئے ۔ ۱۱۳۰: حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ ۱۱۳۰: ابو نعیم نے ہم سے بیان کیا، کہا: مسعر نے حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ زِيَادٍ قَالَ سَمِعْتُ ہمیں بتایا۔ انہوں نے زیاد ( بن علاقہ ) سے روایت الْمُغِيْرَةَ هُ يَقُوْلُ إِنْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى کی ۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت مغیرہ کو کہتے سنا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَقُوْمُ أَوْ لَيُصَلِّيَ حَتَّى تَرِمَ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنا کھڑے رہتے (یا کہا:) الفاظ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ثالث حاشیہ صفحہ ۲۰)