صحیح بخاری (جلد دوم) — Page 520
صحیح البخاری جلد ۲ ۵۲۰ ١٩ - كتاب التهجد قَدَمَاهُ أَوْ سَاقَاهُ فَيُقَالُ لَهُ فَيَقُولُ أَفَلَا اتنی دیر تک نماز پڑھتے رہتے کہ آپ کے پاؤں أَكُوْنُ عَبْدًا شَكُورًا۔اطرافه: ٤٨٣٦، ٦٤٧١ تشریح ہمارے یا کہا: آپ کی پنڈلیاں سوج جاتیں۔آپ سے کہا جاتا تو آپ فرماتے : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔قِيَامُ النَّبِيِّ عل الله اللَّيْلَ : حضرت محمد رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی پا کیز و معنویات کا احاطہ کرنا لئے ممکن نہیں۔عشق الہی کا کیا ہی بے پناہ جذبہ تھا، جو گھنٹوں آپ کو لذت عبادت میں سرشار کھڑارکھتا۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے مناجات الہی سے آپ کا دل سیر نہیں ہوتا تھا اور غایت درجہ لذت کی وجہ سے آپ کی طبیعت میں اُکتاہٹ نہیں ہوتی تھی۔آپ کی عبادت تھی یا آبشار محبت کا مسلسل بہاؤ۔آپ کا قول قُرَّةُ عَيْنِي فِي الصلوۃ۔(میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں ہے؟ آپ کے عمل کی صحیح ترجمانی کرتا ہے۔بَابِ : مَنْ نَامَ عِنْدَ السَّحَرِ جو صبح کے وقت سو جائے ۱۱۳۱ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۱۳۱: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرُو کہا : سفیان بن عیینہ ) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں بْنُ دِينَارٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ أَوْس أَخْبَرَهُ أَنَّ نے کہا: عمرو بن دینار نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن اوس عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ الله نے ان کو خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَحَبُّ الصَّلَاةِ إِلَى نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو نہایت ہی پسندیدہ نماز حضرت اللَّهِ صَلَاةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَأَحَبُّ داؤد علیہ السلام کی نماز ہے اور اللہ تعالیٰ کو نہایت پسندیدہ روزے حضرت داؤد کے روزے ہیں۔وہ آدھی رات تک سوتے اور تہائی رات تک عبادت کرتے اور چھٹے حصے میں سوتے۔ایک دن روزہ الصِيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ وَكَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُوْمُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ ودو ويصوم يوما ويفطر يوما۔رکھتے اور ایک دن افطار کرتے۔اطرافه ۱۱۵۲، ۱۱۵۳، ۱۹۷۱، ۱۹۷۵ ، ۱۹۷۶، ۱۹۷۷ ، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، ۱۹۸۰، ٣٤١٨، ٣٤١٩، ۳٤٢٠، ۵۰۵۲، ٥۰۵۳، ۵۰٥٤، ٥۱۹۹، ٦١٣٤، ٦٢٧٧۔(سنن نسائی، کتاب عشرة النساء، باب حبّ النساء)